|

وقتِ اشاعت :   December 31 – 2020

تربت: ایرانی تیل کے کاروبار سے بلوچستان کے لاکھوں چولہے جلتے ہیں،بندش کسی صورت قبول نہیں،وفاقی وصوبائی حکومت ایرانی تیل کے کاروبارپر بندش کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں،ایرانی تیل کی بندش سے بلوچستان کے پسماندگی میں مزید اضافہ ہوگا۔ بلوچستان وسندھبس کوچز ٹرانسپورٹ یونین کے صدر حاجی یاسر مہران آسکانی کے زیرصدارت یونین کا اجلاس منعقد ہوا۔

یونین کے جنرل سیکرٹری رفیق قاضی نے اجلاس کی کارروائی کے فرائض سرانجام دیئے، اجلاس میں ٹرانسپورٹ، تربت ٹوکراچی روٹ میں مسافربسوں کی بلاوجہ اورکئی مقامات پر چیکنگ ،ایرانی تیل کی کاروبارپر بندش کے امورپریونین کے اراکین نے بحث ومباحثہ کیا اورتجاویزپیش کئے، بلوچستان وسندھ بس کوچز ٹرانسپو رٹ یونین کے صدر حاجی یاسر مہران نے ۔

حکومت کی طرف سے ایرانی تیل کی غیر اعلانیہ بندش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سرکار کے اس اقدام کو ہرگز قبول نہیں کریں گے ، جس سے بلوچستان کے لاکھوں چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں اور غریب نان شبینہ کا محتاج بنیں،مکران بارڈری علاقہ ہے،دنیابھرکے ممالک کے بارڈری علاقوں کے کاروباری ایک دوسرے کی گڈزیا تیل سے وابستہ ہیں، ایرانی تیل کے کاروبار سے بلوچستان کے لاکھوں چولہے جلتے ہیں۔

ایرانی تیل کی بندش کسی بھی صورت قبول نہیں,ایرانی تیل کی بندش سے بلوچستان بھر میں بیروزگاری اور فاقہ کشی کا ایک سیلاب آجائیگا،وفاقی اور صوبائی سرکار اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔ انہوں نے کہاکہ ایرانی تیل کی بندش سے بلوچستان کی پسماندگی میں مزید اضافہ ہوگا جس سے حالات بگڑنے کا خدشہ ہے، حاجی یاسر مہران آسکانی نے بلوچستان اور وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ وہ ایرانی تیل کی بندش کے حوالے سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔

اور ایرانی تیل کے کاروباری کو قانونی شکل دیں تاکہ بلوچستان کا بیروزگار اور غریب طبقہ اس کاروبار سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکیں،سرکار کی ہر ممکن کوشش ہونی چاہیے کہ عوام کو ریلیف دے ناکہ غریب عوام کو مزید اذیت میں مبتلا کرے اور ان سے ان کے منہ کا نوالا چھین لے، ایرانی تیل کا کاروبار جب قانونی تقاضے کے مطابقے لیگلائز ہوگا ۔

تو اس سے صوبائی اور وفاقی بجٹ کو کروڑوں کا ریوینیو ملے گا اور عوام خوشحال ہوگی اورسرحدی علاقوں میں امن برقراررہیگا،اجلاس میں تشویش کااظہارکیا گیاکہ تربت ٹو کراچی تک مختلف مقامات پر چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں،ہر چیک پوسٹ پر مسافربسوں کو روک کر چیکنگ کے نام پر عوام کی تذلیل اوروقت ضائع کیاجاتاہے،اس مسئلے کامل بیٹھ کر حل نکالناہوگا۔