|

وقتِ اشاعت :   December 31 – 2020

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماء و رکن صوبائی اسمبلی ثناء بلوچ نے کہا ہے کہ شدید سردی میں گزشتہ کئی دنوںسے احتجاج پر بیٹھے گلوبل پارٹنرشپ ایجوکیشن ( جی پی ای) مرد و خواتین اساتذہ کے مطالبات کے حل لئے حکومت اقدامات اٹھائے ، میری تجویز ہے کہ احتجاج کے لئے اسمبلی کے سامنے جگہ مخصوص کی جائے تاکہ عوام کے مسا ئل حکومت اور اراکین اسمبلی تک ان کے مسائل فوری طور پر پہنچ سکیں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوںنے جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب کے باہر گلوبل پارٹنرشپ اساتذہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ ثناء بلوچ نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے بنیادی مسائل حل کریں تاکہ عوام ایک بہتر زندگی گزار سکیں ، گلوبل پارٹنرشپ ایجوکیشن اساتذہ کے مسائل کو اسمبلی سمیت ہر فلور پر اٹھائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ اساتذہ خاص کر فی میل جو شدید سردی میں احتجاج پر بیٹھی ہوئی ہیں ان کے مسائل فوری طور پر حل ہونے چاہیے اب انہیں اسمبلی جانے سے روکا جارہا ہے لیکن میری یہ تجویز ہے کہ احتجاج پریس کلب کی بجائے اسمبلی کے باہر ہونا چاہیے اور اس کے لئے ایک جگہ مخصوص کی جائے تاکہ احتجاج کرنے والوں کے مسائل اراکین اسمبلی اور حکومت تک فوری طور پر پہنچ سکیں۔

انہوںنے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت سطح پر ابھی تک ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی ۔ اس سے قبل لیگل ڈائریکٹر سکولز نظام الدین نے خواتین اساتذہ کے احتجاجی کیمپ آکر انہیںیقین دہانی کرائی کہ حکومت ان کے مسائل پر غور کررہی ہے۔

اور اس حوالے سے جلد ہی نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ 4مرد اور 4خواتین اساتذہ ان کے ہمراہ چلیں تاکہ ان کی وزیراعلیٰ سے ملاقات کرائی جاسکے تاکہ وہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے سامنے اپنے مسائل پیش کریں ۔