حب: عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے صوبائی سیکرٹری جنرل مابت کاکا نے گزشتہ روز پارٹی کے صوبائی سینئر نائب صدر اصغر ترین ،لسبیلہ کے ضلعی صدر عبدالمنان افغان ،لسبیلہ کے جنرل سیکرٹری آغا عبدالباقی،سینئر نائب صدر حاجی برات خان کے ہمراہ بلدیہ ریسٹ ہائوس میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے صوبائی ترجمان اسد خان اچکزئی۔
25ستمبر2020ء کو چمن کوئٹہ شاہراہ سے اغواء ہوئے ہیںلیکن 3ماہ گزر نے کے باوجود ابھی تک اسد خان اچکزئی بازیاب نہیں ہوا ہے اس حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کی صوبائی تنظیم نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام ضلعی ہیڈ کوارٹر میں ایک احتجاجی ریلی اور مظاہرہ منعقد کئے جائے اسی فیصلے کی بنیاد پر عوامی نیشنل پارٹی لسبیلہ کے جانب سے اسد خان اچکزئی کی عدم بازیابی کے خلاف گزشتہ روز صنعتی شہر حب میں ایک پُر امن احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔
اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے انھوں نے کہاکہ عوامی نیشنل پارٹی پرامن سیاسی وجمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہیں ملک بننے کے بعد جتنی بھی پارٹیوں کے اکابرین نے جمہوری کیلئے جو جہدوجہد کی ہے اس دوران قوم دوست وطن دوست جمہوری قوتوں کے ساتھ ملکر ہر وقت آمرناقوتوں کے خلاف حقیقی جمہوریت کی بحالی اور میڈیا کی آزادی اور عدلیہ کی خود مختیاری کیلئے آواز بلند کی ہے۔
اورجمہوریت کو بحال کرنے کیلئے ہمارے اکابرین نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے حالیہ20سے25سالوں کے دوران جو انتہا پسندی اور دہشت گردی کو اس ملک میں ایک رواج دیا گیا اس اتنہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف ہم یہ دعویٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ اگر کوئی فرنٹ لائن پر ان کے مقابلے میں کھڑا ہو اہے وہ عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنان اور اکابرین کھڑے رہے ہیں ۔
کیونکہ اتنہا پسندی اور دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے عوامی نیشنل پارٹی نے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کیا ہوا ہے اس اتنہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف اے این پی کے مرکزی وصوبائی قائدین سمیت 1200کے قریب افراد نے ان کے خلاف تحریک چلائی جن میں ہماری خواتین بھی ہماراساتھ شانہ بشانہ کھڑی تھیں انھوں نے کہاکہ اس ملک میں جب تک عوام کے مسائل نہیں ہو تے اس وقت تک حالات میں بہتری نہیں آئے گی۔
آج بلوچستان ، پشتونخواہ میں جو ہورہا ہے اور اس ملک کی 73سالہ تاریخ دیکھا جائے ان بالادست قوتوں کے خلاف پارٹی قیادت نے یہ علم بلند رکھا ہے اور مختلف ادوار میں اس طرح کے واقعات رونما ہوئے ہیںاس لیئے اسدخان اچکزئی آج ہماری صفوں میں موجود نہیں ہے انکو اغواء ہوئے تین ماہ پورے ہوچکے ہیں اس طریقہ سے سیاسی کارکنوں کو لاپتہ کرنا نہ اس کے کل اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
اور نہ ہی آئندہ اچھے نتائج برآمد ہونگے ہم میڈیاکے زریعے ملک کے حکمرانوں تک یہ بات پہنچنا چاہتے ہیں کہ ہمارے عدم تشدد پھیرا سیاسی کارکن پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے اگر وہ بے گنا ہ ہے انہیں فوری رہا کیا جائے انہوں نے کہا کہ اسد خان اچکزئی پہلے سے ہی ایک گرد پر اپنی زندگی بسر کررہا ہے وہ گرد بھی اس کے بھائی نے انہیں ڈونیٹ کی ہے جو پہلے سے ایک احسا زندگی گزر رہا ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہے اگر کسی کی نظر پر اس پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے اور اگر انہیں کسی اغواء کاروں نے اٹھایا ہے تو ہم ان سے بھی یہ اپیل کرتے ہیں کہ انسانی ہمدردی کے بنیادی پراور ایک احساس زندگی گزرنے واے سیاسی کارکن کو رہا کیا جائے مابت کاکا نے مزید کہاکہ 9جنوری کو اے این پی کے صوبائی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔
جس میں بڑے فیصلے کرنے جارہے ہیں 9جنوری کے اجلاس تک حکام بالا سے مطالبہ کرتے ہیںکہ اسد خان اچکزئی کو باریاب کروایا جائے بصورت دیگر عوامی نیشنل پارٹی سخت اقدام اٹھانے پر مجبور ہوجائے گی انھوںنے کہاکہ نادرا کی جانب سے ہمارے پشتون بھائیوں کے ساتھ ناروسلوک کیا جارہا ہے ہمارے پشتون بھائیوں سے بلوچ ، ودیگر اقوام کے افراد کو بھی شناختی کارڈ نہیں دیئے جارہے ہیں۔
جبکہ ہم ایک شناخت مانگ رہے ہیں تو وہ ہمیں کیوں نہیں دی جارہی ہے صرف نادرا ہی نہیں واپڈا بھی اس صوبے کے عوام کے ساتھ ناروسلوک کررہا ہے اس صوبے سے گیس نکلتی ہے لیکن عوام کو گیس نہیں دی جارہی ہے اگر دی جاتی ہے تو وہ بھی لوڈشیڈنگ کی صورت میں دی جارہی ہے۔