|

وقتِ اشاعت :   January 2 – 2021

نوشکی: سابق رکن قومی اسمبلی و جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی معاون مالیات انجینئر حاجی میر محمد عثمان بادینی نے کہا ہے کہ پاک ایران سرحدی شہر تفتان میں زیرو پوائنٹ کی بندش انتہائی افسوس ناک ہے۔

گذشتہ چار مہینے سے ایرانی حکام نے زیرو پوائنٹ کو بند کر دیا ہے، تفتان کے لوگوں کا تمام ذریعہ معاش زیرو پوائنٹ کے ساتھ وابستہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزآئی این پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہاکہ زیرو پوائنٹ کی بندش تفتان کے لوگوں کے معاشی قتل کے مترادف ہے۔ پاک ایران سرحدی شہر تفتان سے سالانہ اربوں روپے حکومت کو رونیو ملتا ہے۔

مگر تفتان کے لوگ آج بھی زندگی کی تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ اس سے پہلے بھی کئی بار تفتان زیرو پوائنٹ کو بند کرکے عوام کو مالی مشکلات کا شکار بنایا گیا اب ایک بار پھر زیرو پوائنٹ کو بند کرکے عوام کو نان شبینہ کیلئے محتاج کیا جا رہا ہے ، ہم نے پہلے بھی ہر فورم پر زیرو پوائنٹ کی بندش کے خلاف آواز بلند کی ہے اور آئندہ بھی تفتان کے عوام اور مزدوروں کے ساتھ شانہ بشانہ ہوکر ہر فورم پر آواز بلند کرینگے ۔

تاکہ باڈری علاقوں میں رہنے والوں کی روز گار متاثر نہ ہو آج تفتان میں لوگ احتجاج کرنے پر مجبور ہے سڑکیں بند کیئے جارہے ہیں جس سے دیگر لوگ بھی متاثر ہونگے اور بدامنی کے خدشات ہونگے۔

زیرو پوائنٹ دو ملکوں کے درمیان ایک معاہدے کے تحت قائم کیا گیا ہے، مگر ایران کی جانب سے گذشتہ چار مہینے سے زیرو پوائنٹ کو بند کرنا، تفتان کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ سینکڑوں مزدوروں کے گھر کے چولہے بجھ گئے ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ تفتان زیرو پوائنٹ کو جلد کھول کر لوگوں کو روزگار کا موقع دے۔