|

وقتِ اشاعت :   January 7 – 2021

پشاور: اے این پی کے مر کزی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے وزیرستان سے باجوڑ اور بلوچستان سے سوات تک نئے خطرات منڈلارہے ہیں اور لگ رہا ہے نئی جنگ شروع کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں لیکن پوری پشتون قیادت اب کہہ چکی ہے کہ مزید پختونوں کا خون نہیں بہنے دیں گے۔ ایک کروڑ نوکریاں دینے والوں نے لاکھوں پاکستانیوں کو بے روزگار کردیا ہے۔

50 لاکھ گھر بنانے والے ذرا ایک گھر دکھادیں کہ کہاں بنائے گئے ہیں؟ نااہل حکومت اور کچکول توڑنے والوں نے پاکستان کے قرضوں میں 14ہزار ارب روپے کا اضافہ کیا جو گذشتہ 70سالوں میں 30 ہزار تھا۔ بنوں سپورٹس کمپلیکس میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے زیراہتمام بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے امیرحیدر خان ہوتی نے کہا کہ وزیرستان سے لے کر با جوڑ اور بلوچستان سے سوات تک پختون بھائیوں کے گھر تباہ و برباد پڑے ہیں ۔

لیکن پوچھنے والا کوئی نہیں، نئے گھر بنانے والوں نے کتنے گھر ان علاقوں میں تعمیر کئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ آج سلیکٹڈ اور نااہل حکومت یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ جلسہ ناکام ہوگیا ہے لیکن آج جنوبی اضلاع کے عوام نے بھی ثابت کردیا کہ عوام سلیکٹڈ کو مانتے ہیں نہ سلیکٹرز کو۔ عمران خان اپوزیشن میں تھا تو کہتا تھا مہنگائی تب آتی ہے جب حکمران چور ہو، 70 سال کی تاریخ میں سب سے زیادہ مہنگائی آج ہے۔

جس کا مطلب کہ عمران خان ہی سب سے بڑا چور ہے۔ امیرحیدر خان ہوتی نے کہا کہ وزیراعظم خود ہندوستان کے ساتھ کرتارپور راہداری کا افتتاح کرتا ہے لیکن پشتونوں پر تجارتی راستے بند کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پشتونوں کے تمام تجارتی راستے کھول دیے جائیں۔