|

وقتِ اشاعت :   January 7 – 2021

گوادر: صدر ڈاکٹر عارف علوی نے گوادر پورٹ فری زون ایریا کو کراچی بندرگاہوں کے علاوہ افغانستان اور بلوچستان کے ساتھ تجارت کے لئے بھی استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر بندرگاہ پر ٹریفک کے تیز بہاؤ کو یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ ترقیاتی سرگرمیوں کو تیز کرے اور اتفاق رائے سے اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے ذریعے اس میں رکاوٹوں کو دور کرے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج گوادر میں گوادر شہر کے ماسٹر پلان اور گوادر پورٹ کو چلانے کے بارے میں پیشرفت کے حوالے دے بریفنگ میں کیا۔ انہیں چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی (جی پی اے)، نصیر کاشانی اور ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے)، شاہ زیب خان کاکڑ نے بالترتیب گوادر پورٹ اور گوادر شہر میں ترقیاتی کاموں کے بارے میں بتایا۔

صدر مملکت نے کہا کہ گوادر بندرگاہ جیسے قومی منصوبوں کی کامیابی سے تکمیل اور ان کے عمل کیلئے حکمت عملی اور وژن ضروری ہے۔ انہوں نے ماضی میں گوادر میں ترقی کی سست رفتاری پر افسوس کا اظہار کیا اور مقررہ وقت کی مطابق بندرگاہ پر تمام بنیادی ڈھانچے اور صنعت سے متعلق خمنصوبوں کی بروقت تکمیل کی ضرورت پر زور دیا۔صدر مملکت کو بندرگاہ کے ساتھ 19 کلومیٹر کے ایسٹ بے ایکسپریس وے کے بارے میں آگاہ کیا گیا جو ساحلی شاہراہ سے منسلک ہوگا اور گوادر کی مقامی آبادی کو پریشان کیے بغیر سامان لے جانے میں مدد کرے گا۔

انہیں گوادر میں 60 ایکڑ فری زون ایریا کے بارے میں بھی بتایا گیا جس میں تفریحی سہولیات، اسپتال، اسکول اور متعدد صنعتیں شامل ہوں گی۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے گوادر سٹی اور گوادر پورٹ کے ماسٹر پلان پر بریفنگ پر جی ڈی اے اور جی پی اے کی تعریف کی اور دونوں تنظیموں سے گوادر میں بندرگاہ کے ساتھ ساتھ شہر پر کام کو تیز کرنے کی بھی تاکید کی۔

انہوں نے دونوں اتھارٹیز کو مشورہ دیا کہ ماسٹر پلان میں مقامی ماہی گیروں کی ضروریات کا بھی خیال رکھا جائے۔ انہوں نے گوادر میں جدید ترین چائنا بزنس سینٹر (سی بی سی) تعمیر کرنے پر چینی حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔اجلاس میں صوبائی وزیر ریونیو سلیم کھوسہ، پارلیمانی سیکریٹری برائے مذہبی امور، ، ایم پی اے لالہ رشید ، صوبائی وزیر نور محمد دمڑ اور دیگر بھی موجود تھے۔