کوئٹہ: وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اسٹیبلشمنٹ جناب محمد شہزاد ارباب کی سربراہی میں پارلیمانی وفد نے آج چمن بارڈر کا دورہ کیا۔ وفد کے دیگر ممبران میں وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان امور، محمد صادق، محترمہ شندانہ گلزار، ایم این اے صلاح الدین ایوبی ، صوبائی ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حافظ عبدالباسط، چیف کلیکٹر کسٹم بلوچستان گل رحمان ، کلیکٹر پرونٹو عرفان جاوید ، کلیکٹر اپرزمنٹ وحید مروت۔
محترمہ نفیسہ عنایت اللہ خان خٹک، ڈاکٹر حیدر علی خان، کمانڈنٹ ایف سی کرنل راشد اوردیگر سینئر افسران برائے وزارت تجارت، داخلہ، ریلوے، نادرا، ایف سی اور این ایل سی شامل تھے۔اس دورے کا مقصد وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق مختلف معاملات پر پیشرفت کا جائزہ لینا تھا تاکہ افغانستان کے ساتھ تجارت کو فروغ اور چمن بارڈر پر نقل و حرکت کو آسان بنایا جا سکے۔
پارلیمانی وفد نے دورے کے دوران ایف سی فورٹ، چمن بی سی پی اور چمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز میں میٹنگزکیں۔ اس موقع پر پارلیمانی وفدکو مختلف اقدامات پر بریفنگ دی گئی جن میں ہفتے میں ساتوں دن بارڈر کو کھولے رکھنا، ریلوے رابطوں کی بحالی، سیکیورٹی چیک پوسٹوں کی تعداد میں کمی، مقامی آبادی کی سہولت اور دوطرفہ تجارت میں آسانی پر مرکوز دیگر اقدامات شامل ہیں۔
اس موقع پروزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اسٹیبلشمنٹ شہزاد ارباب نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے دوطرفہ تجارتی تعلقات اور دونوں ممالک کے عوام کے مابین بہتر رابطے ہونا پاکستان کے لئے بہت اہم ہے۔ لہذا، ہم دونوں ممالک کے مابین تجارت کے ہموار عمل میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے تمام ضروری اقدامات کریں گے۔
افغانستان کے لئے پاکستان کی نئی ویزا پالیسی نے افغان شہریوں، تاجروں، طلباء اور مریضوں کو سہولت فراہم کی ہے اور اس سے طویل مدتی تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔اجلاس کے دوران، تمام فریقین نے افغانستان کو برآمدات کے حجم میں اضافے اور تجارتی عمل کو ہموار کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ مقامی آبادی اور لوگوں کی دوطرفہ نقل و حرکت کو آسان بنانے کے ذریعے۔
پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی حجم میں اضافہ ہوگا ۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اسٹیبلشمنٹ شہزاد ارباب نے مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چمن کے لوگوں کے جائز مطالبات مانے جائیں گے۔ بارڈر ہفتے میں ساتوں دن کھلنے سے لوگوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر ہوں گے۔