کوئٹہ: مر کزی انجمن تا جران بلو چستان اور اتحاد تا جران بلو چستان کی کال پر سانحہ مچ کیخلا ف صو با ئی دارالحکومت کو ئٹہ میں شٹرڈائون ہڑتال کی گئی جس کے دوران شہر میںتمام چھوٹے بڑے تجارتی مراکز بند رہے ۔دوسری جا نب مچ میں قتل کئے جا نے والے کا نکنوںکے لواحقین اور ہز ارہ کمیونٹی کی جا نب سے دھرنا پانچویں روز بھی جاری ر ہا ۔جہاں پا کستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ،مسلم لیگ(ن)کی نائب صدر مریم نواز شریف جمعیت علما اسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری سمیت مختلف سیاسی جما عتوں کے قائدین اور ورکرز نے آ کر دھرنے کے شرکا سے اظہار یکجہتی کی ۔
تفصیلات کے مطابق جمعرات کوصوبا ئی دارالحکومت کوئٹہ میں سانحہ مچ کے خلاف مرکزی انجمن تاجران اور اتحاد تا جران کی کا ل پرشٹرڈائون ہڑتال کی گئی جس کے دوران تمام تجارتی مراکزبند رہے ہڑتال کے با عث کو ئٹہ کی معروف تجا رتی مراکز لیاقت بازار، پرنس روڈ،جناح روڈ،قندھار ی، بازارسٹیلائٹ ٹائون ،کانسی روڈ، علمدارروڈ،مری آباد دیگر میں ویرا نی رہی جبکہ شہر میں ٹریفک بھی معمول سے کم رہی ۔
ہڑتال اور اہم شخصیات کی کو ئٹہ آمد کے مو قع پر سیکورٹی کے سخت انتظا ما ت کئے گئے تھے ۔جس کے دوران شہر بھر میں سیکورٹی کی زائد نفری تعینا ت رہی بلکہ گشت کا بھی سلسلہ جا ری رہا اس کے علا وہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں کی کڑی نگرا نی جا ری رہی ۔دریں اثنا ء مچ میںقتل کئے جا نے والے مزدوروں کے لواحقین اور ہز ارہ کمیونٹی کی جا نب سے مغربی با ئی پاس پر لا شوں سمیت پانچویں روزبھی دھر نا جاری رہا۔
جہاں پا کستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ،مسلم لیگ(ن)کی نائب صدر مریم نواز شریف جمعیت علما اسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری سمیت مختلف سیاسی جما عتوں کے قائدین اور ورکرز نے آ کر دھرنے کے شرکا سے اظہار یکجہتی کی ۔ تا ہم دھر نے کے شر کا ء نے وزیراعظم کی آمد تک نعشوں کی تدفین سے انکار کردیا۔
واضح رہے وفاقی وزراء شیخ رشیداحمد ، علی زیدی، وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری دھر نے کے شر کا ء کو نعشوں کی تدفین کیلئے منا نے میں نا کا م رہے تھے۔
بلکہ گزشتہ دنوںوزیراعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان عالیا نی بھی دبئی سے اپنا نجی دورہ مختصر کرکے پہلے امام بارگاہ ولی عصر اور پھر مغربی بائی پاس پر دھرنے کی شرکا ء کے پاس پہنچے تھے ۔ مگر وہ دھرنا ختم کرنے اور کان کنوں کی متیوں کی تدفین کے لیے دھر نے کے شرکا ء قائل کرنے میں کا میا ب نہیں ہو سکے تھے ۔