کوئٹہ: امیرجماعت اسلامی پاکستان سنیٹرسراج الحق نے کہاکہ اسلامی حکومت میں ہی عوام کے مسائل حل ہوسکتے ہیں حکومتوں میں جرم ولوٹ مار پر سزاملتی تو بدعنوانی میں اتنا اضافہ نہیں ہوتا ۔بدقسمتی سے لٹیروں کی سرپرستی ہورہی ہے جس کی وجہ سے لٹیرے دلیر بن گیے ہیں جماعت اسلامی سیاست ،عدالت وحکومت کو اسلامی بنانے کی جدوجہد کر رہی ہے تاکہ عدل وانصاف قائم ہواور مجرم کوسزامل سکیں ۔
بدقسمتی سے سابقہ و مودہ حکومت کے پالیسیاں ایک ہیں ۔سودی نظام ہو یا امریکی ، ورلڈبینک اور آئی ایم ایف کی غلامی ہو ، کشمیر پر ہندوستان کے ساتھ ساز باز ،فحاشی و عریانی پھیلانا ہویا علما ، مدارس ، مساجد کی توہین ہو، ملکی خزانہ لوٹنے سے لے کر کرپشن تک سب پالیسیاں ایک ہیں اگرکسی چیز پر اختلاف ہے تو وہ اقتدار اور ذاتی مفادات ہیں ۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے کوئٹہ میں ذمہ داران سے گفتگواور مدرسہ دارالرشادچمن پھاٹک مسجد میں خطبہ جمعہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
انہوں نے کہاکہ امریکی تابعداری میں اپوزیشن اور حکو مت دونوں ایک دوسرے سے بازی لے جانے میں لگے ہیں ۔ اسلامی ملک میںمساجد و مدارس کے لیے خزانے میں ایک روپیہ نہیں رکھاگیا جب کہ اسلام آباد میںمندر کی تعمیر کے لیے ایک سو ملین روپے رکھے گئے ہیں تاکہ دنیا کو بتاسکیں کہ اسلام آبادمیں ایک مثالی مندر کی تعمیر کی جارہی ہے ۔
پاکستان کو اگر انگریزوں کے غلاموں اور بڑی ڈگریاں لینے والوں کے بجائے علما کرام کے حوالے کرتے تو ملک دولخت نہ ہوتا اور آج پاکستان ایک مضبوط اور مستحکم ملک ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اس ملک میں اسلامی نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہی ہے ۔ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے ۔ ہماری سیاست کی بنیاد اسلام اور نظریہ پاکستان پر ہے ۔
پاکستان کی نظریاتی شناخت کو قائم رکھنا ہی ہماری اصل کامیابی ہے ۔قانون افراد کیلئے نہیں بلکہ ملک و قوم کیلئے ہوناچا ہئے ۔ حکومت بڑے جاگیر داروں اور سرمایہ داروں سے ٹیکس وصولی کا منظم نظام نہیں بنا سکی، غریبوں کو ٹیکس کی چکی میں پیستے اور ان کا خون نچوڑتے رہنامعاشی پلاننگ نہیں ۔انہوں نے کہا کہ لوٹ کھسوٹ کے نظام کو ختم کئے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔انہوں نے کہا کہ نظام مصطفیﷺ کا نفاذ ہی تمام ملکی مسائل کا حل ہے۔