جو بائیڈن ایسٹرن اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق دوپہر 12 بجے حلف اٹھا کر امریکا کے 46ویں صدر بن جائیں گے جس کے بعد انہیں ایک انتہائی منقسم قوم کی سربراہی اور وراثت میں بحرانوں کا ایک ڈھیر ملے گا جو انکے پیش روؤں کے مقابلے کہیں زیادہ ہے۔
برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق 78 سالہ جو بائیڈن واشنگٹن میں ہونے والی ایک محدود حلف برداری کی تقریب میں امریکی تاریخ کے سب سے معمر صدر بن جائیں گے۔
تقریب کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ 6 جنوری کو پیدا ہونے والے سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے بڑی حد تک اپنی معمول کی صورتحال سے محروم ہوگئی ہے، جس میں امریکا کے سبکدوش ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے امریکی کیپٹل (وہ علاقہ جہاں امریکی حکومت کی اہم عمارتیں واقع ہیں) پر حملہ کردیا تھا۔
جو بائیڈن کی ساتھی کمالا ہیرس بھارت اور جمائیکا سے آئے پناہ گزین کی بیٹی ہیں جو امریکی سپریم کورٹ کی جسٹس سونیا سوتومیئر کے ساتھ سامنے حلف اٹھا کر نہ صرف پہلی سیاہ فام بلکہ پہلی خاتون اور ایشیائی نژاد امریکی نائب صدر بن جائیں گی۔
ادھر روایت شکنی کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ اپنے جانشین کے ساتھ حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے بجائے بدھ کی صبح ہی واشنگٹن سے روانہ ہوجائیں گے۔
حلف برداری کے موقع پر ہزاروں افراد کے جمع غفیر کے بجائے امریکی ریاستوں اور خطوں کے عوام کی نمائندگی کرنے کے لیے نیشنل مال کو 2 لاکھ پرچموں اور روشنی کے 56 ستونوں سے مزین کیا گیا ہے۔
مشیروں کے مطابق جو بائیڈن جنہوں نے ‘امریکا کی روح بحال’ کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، اپنے پہلے خطاب میں اس بحران کے دور میں امریکا کو متحد ہونے کا پیغام دیں گے۔
مشیروں کا کہنا تھا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور کا صفحہ پلٹنے کی کوشش میں زیادہ دیر نہیں لگائیں اور دفتر میں اپنے پہلے ہی روز عالمی وبا سے لے کر معیشت اور ماحولیات سے متعلق 15 انتظامی اقدامات پر دستخط کریں گے۔
ان کے احکامات میں وفاقی علاقوں میں ماسک کا لازمی استعمال، پیرس ماحولیاتی معاہدے میں دوبارہ شمولیت اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلمان اکثریت والے ممالک پر عائد سفری پابندیوں کا خاتمہ شامل ہوگا۔
حلف برداری کی تقریب انتہائی سخت سیکیورٹی سے گھرے امریکی کیپٹل کے سامنے ہوگی جہاں ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے ان جھوٹے دعووں پر مشتعل ہو کر 2 ہفتے قبل عمارت پر حملہ کردیا تھا کہ لاکھوں جعلی ووٹس کے ذریعے نومبر کے انتخابات چوری کرلیے گئے۔
واشنگٹن میں انتہائی تناؤ کی صورتحال نے 1861 میں ابراہم لنکن کے عہدہ سنبھالنے کی یاد تازہ کردی ہے جب انہیں خانہ جنگی کے نتیجے میں کسی حملے سے بچانے کے لیے خفیہ طور پر دارالحکومت منتقل کیا گیا تھا۔
انتباہ کے باوجود جو بائیڈن نے تقریب کو عمارت کے اندر منعقد کرنے سے انکار کیا اور اس کے بجائے وہ ایک محدود اور سماجی فاصلے والے ہجوم سے خطاب کریں گے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نہ صرف باہر سے خطرے کا سامنا ہے بلکہ حفاظت پر مامور دستے کے اندرونی حملے کے بڑھتے ہوئے خدشات بھی درپیش ہیں جبکہ جوبائیڈن کے لیے خصوصی طور پر کوئی خطرہ نہیں۔
بنیادی طور پر امریکی دارالحکومت میں لاک ڈاؤن نافذ ہے جبکہ 25 ہزار سے زائد دستے اور پولیس اہلکار حفاظت پر مامور ہیں۔
گلیوں کو ٹینکس اور رکاوٹیں لگا کر بند کردیا گیا ہے، نیشنل مال بند ہے، امریکی کیپٹل کمپلیکس کے ارد گرد باڑ لگادی گئی ہے، چوکوں پر چوکیاں قائم ہیں جبکہ امریکی خفیہ سروسز جو تقریب کی انچارج ہے، کا کہنا ہے کہ وہ تیار ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی کیپٹل کے گھیراؤ اور اشتعال انگیزی میں 5 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ عمارت میں موجود قانون ساز چھپنے پر مجبور ہوگئے تھے جس کے بعد شہر میں ہزاروں کی تعداد میں نیشنل گارڈ کے اہلکاروں کو طلب کرلیا گیا تھا۔
اس اشتعال انگیزی پر ڈیموکریٹ اکثریت والے مریکی ایوان نمائندگان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی کی تھی جو امریکی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ کسی صدر کے خلاف دوسری مرتبہ مواخذے کی کارروائی ہو۔