|

وقتِ اشاعت :   February 4 – 2021

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی گورننگ باڈی کے اجلاس میں مجوزہ بجٹ برائے مالی سال 2020-21 اور نظر ثانی شدہ بجٹ برائے مالی سال 2019-20 گوادر بلڈنگ ریگولیشن 2020 میں مجوزہ ترامیم، ٹاؤن پلاننگ سے متعلق معاملات، مختلف ترقیاتی منصوبوں کی منظوری، ماہرین کی کنٹریکٹ کی بنیادوں پر تعیناتی، جی ڈی اے ملازمین کیلئے میڈیکل انشورنس سہولیات کی فراہمی سمیت دیگر اہم امور کا جائزہ لیاگیا۔

اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی، چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن(ر) فضیل اصغر،، ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیاتی عبدالصبور کاکڑ، سیکرٹری خزانہ پسند خان بلیدی، ڈی جی گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی شاہ زیب کاکڑ، ڈی جی تعلقات عامہ عمران زرکون، گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین نصیر کاشانی اور پلانگ کمیشن کے نمائندے کی بذریعہ ویڈیو لنک شرکت سمیت دیگر متعلقہ حکام موجود تھے۔

اجلاس کو ڈی جی گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی شاہ زیب کاکڑ نے ایجنڈا پوائنٹس پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گوادر ماسٹر پلان پر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے تمام ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ ڈی جی بی ڈی اے نے گوادر بلڈنگ ریگولیشن 2020 میں مجوزہ ترامیم کرکے اسے 2مرحلوں کی بجائے ایک مرحلے پر مرتب کرنے، تیار شدہ عمارتوں کی ریگولائزیشن سے متعلق این او سی، بارانی پانی کی نکاسی کیلئے واٹر چینلز کی تعمیر۔

ماڈل کسٹم کلیکٹریٹ مختلف منصوبوں کے پی سی ون کی منظوری، لیز فنانس ارینجمنٹ سمیت دیگر امور پر بریفنگ دی۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سڑکوں کی تعمیر میں یوٹیلٹی کوریڈور کو ملحوظ خاطر رکھا جائے ڈرین اسٹڈی سے اس بات کا تعین کیا جائے کہ بارانی پانی واٹر چینلنز میں جائے انہوں نے کہا کہ ٹاون پلاننگ سے گوادر شہر اور اس کی آبادی کو بہت فائدہ ہوگا،۔

انہوں نے ہدایت کی کہ عمارتوں کی تعمیر میں معیاری میٹریل کا استعمال یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے سیاحت کے فروغ کے لئے کشتیاں، ڈے ٹور بس اور کلچر آرٹس سے مزین گاڑیوں کے استعمال کیلئے قدامات اٹھائے۔انہوں نے ہدایت کی کہ سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر اس انداز سے کی جائے تاہم گرین بیلٹ متاثر نہ ہو۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اچھی سروس اور انفراسٹرکچر سے اداروں میں بہتری آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے بورڈ میں پرائیویٹ ممبرز کو بھی شامل کیا جائے اور نجی شراکت داروں کی شرکت کو بھی یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے بلوچستان کو بے پناہ وسائل سے نوازا ہے بہترین گورننس اور اچھی پالیسیوں کے مثبت اثرات پورے صوبے میں پڑیں گے۔