|

وقتِ اشاعت :   February 15 – 2021

مشرق وسطی میں کشیدگی کے خدشے کے باعث تیل کی قیمتیں تقریبا 13 ماہ کی بلند ترین سطح پر آگئیں جبکہ امریکی ردعمل اور لاک ڈاؤن میں نرمی سے ایندھن کی طلب میں مدد ملے گی۔ برینٹ کروڈ 1.09 ڈالر یا 1.8 فیصد اضافے کے ساتھ فی بیرل 63.52 ڈالر پر آگیا جس نے سیشن کے دوران 63.76 ڈالر کی بلند ترین سطح بھی چھوا تھا جو 22 جنوری 2020 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) میں خام فیوچر کی قیمت 1.28 ڈالر یا 2.2 فیصد اضافے کے ساتھ 60.75 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

تیل کی قیمتوں میں گزشتہ بھی ہفتے 5 فیصد کے قریب اضافہ ہوا تھا۔

سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی کے مطابق یمن میں لڑنے والی سعودی عرب کے زیر قیادت اتحادی فوج نے اتوار کے آخر کو کہا تھا کہ اس نے ایران کی حمایت یافتہ حوثی گروپ کے ذریعہ ریاست پر اڑائے جانے والے ایک بارود سے بھرے ڈرون کو تباہ کردیا جس سے مشرق وسطی میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔

آئل بروکر کمپنی کے چیف تجزیہ کار کازوہیکو سائتو نے کہا کہ ‘خبر سامنے آتے ہی تیل کی منڈیوں میں تیزی شروع ہوگئی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘تاہم اس تیزی کی وجہ یہ امید بھی رہی کیونکہ امریکی رد عمل اور لاک ڈاؤن میں نرمی سے معیشت اور ایندھن کی طلب میں اضافہ ہوگا’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘ڈبلیو ٹی آئی منافع کی وجہ سے واپس بھی آسکتا ہے کیونکہ یہ 60 کی سطح تک پہنچ گیا ہے’۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنی مدت ملازمت کی پہلی بڑی قانونی کامیابی کے طور پر مقامی حکام کے مشترکہ گروپ سے 19 کھرب ڈالر کے کورونا وائرس امدادی منصوبے پر مدد طلب کی ہے۔

تیل کی قیمتوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران بھی تیزی دیکھی گئی ہے جس کی وجہ بڑے پیمانے پر پیٹرولیم ایکسپورٹ کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور گروپ اوپیک پلس کے اتحادی ممالک نے پیداوار میں کمی پر اتفاق کیا تھا اور اس کی وجہ سے سپلائی میں کمی آئی ہے۔

ایشین حصص پیر کے روز ریکارڈ بلندی کو چھونے میں کامیاب رہے کیونکہ واشنگٹن کی جانب سے نئی مالی امداد کے دوران عالمی سطح پر تیزی سے معاشی بحالی کی امیدوں میں اضافہ ہوا ہے۔