|

وقتِ اشاعت :   February 19 – 2021

چینی فوج نے پہلی مرتبہ وادی گلوان میں بھارتی فوج کے ساتھ گزشتہ برس جون میں ہونے والی جھڑپ کے نتیجے میں اپنے 4 فوجی ہلاک ہونے کی تصدیق کردی۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سرحد پر ہوئی ان جھڑپوں کے نتیجے میں 20 بھارتی فوجی مارے گئے تھے۔

چینی وزارت دفاع کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ سرحدی علاقے وادی گلوان میں ایک غیر ملکی فوج کےساتھ جون کے مہینے میں ہونے والی جھڑپ کے نتیجے میں چینی فوجیوں نے ‘اپنی قربانی’ دی۔

خیال رہے کہ بھارت اور چین نے 1962 میں ایک سرحدی جنگ لڑی تھی اور طویل عرصے سے ایک دوسرے پر حدود عبور کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

جون کے وسط میں وادی گلوان میں بلند و بالا پہاڑی سرحدی مقام پر دونوں فوجوں کے درمیان حالیہ دہائیوں کی ہلاکت خیز جھڑپ کے نتیجے میں 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

اس وقت بیجنگ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ جھڑپوں کے نتیجے میں فوجی زخمی ہوئے ہیں لیکن کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی تھی۔

وزارت دفاع نے کہا کہ بٹالین کمانڈر چین ہونگ جون اور 3 دیگر فوجیوں کو بعداز مرگ ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔

بیان میں جون میں ہونے والی جھڑپ کا الزام ‘غیر ملکی فوجوں پر عائد کیا گیا جو متفقہ سمجھوتے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان کے خیموں تک پہہنچ گئی تھیں’۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ‘چینی فوجیں نمایاں فتح میں اپنے مخالفین کو بھگانے میں کامیاب رہیں اور مخالف فریقین ‘متعدد سرحدی گزرگاہیں خالی اور زخمیوں اور ہلاک شدگان کو چھوڑ کر اپنے سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ کھڑی ہوئے’۔

بعدازاں بیجنگ اور نئی دہلی نے ہزاروں کی تعداد میں اضافی فوجی دستے بھیج دیے تھے۔

خیال رہے کہ دونوں ممالک نے گزشتہ ہفتے سرحدی علاقے کو کھلا چھوڑے دینے پر اتفاق کیا تھا۔

بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ نے کہا تھا کہ یہ سمجھوتہ گزشتہ سال کے اسٹینڈ آف سے قبل کی صورتحال کو یقینی طور پر بحال کردے گا۔