کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام بی این پی جیل روڈ ہدہ یونٹ سیکرٹری قاضی نعمت اللہ نیچاری کے ماورائے آئین وقانون جبری گمشدگی کے خلاف پریس کلب کوئٹہ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیاجس میں بی این پی کے سینکڑوں کی تعداد کارکنوں عہدیداروں نے شرکت کی۔
احتجاجی مظاہرے سے بی این پی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ، مرکزی کمیٹی کے ممبر وضلعی صدر غلام نبی مری ،مرکزی کمیٹی کے ممبر شمائلہ اسماعیل مینگل بلوچ وائس فار مسنگ پرسن کے چیئرمین نصراللہ بلوچ ضلعی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر علی احمد قمبرانی ، بی ایس او کے انفارمیشن سیکرٹری اسرار بلوچ ،بی این پی کے ضلعی ہیومن رائٹس سیکرٹری پرنس رزاق بلوچ اور لاپتہ ہونے والے بی این پی کے رہنماء قاضی نعمت اللہ نیچاری کے بڑے بھائی اور بی این پی کے ضلعی کونسلر قاضی جمعہ خان نیچاری نے خطاب کیا۔
جبکہ اس موقع پر پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر وضلعی جنرل سیکرٹری میر جمال لانگو انفارمیشن سیکرٹری نسیم جاوید ہزارہ ،لیبر سیکرٹری عطاء اللہ کاکڑ پروفیشنل سیکرٹری میر غلام مصطفی سمالانی سمیت دیگر عہدیداران موجود تھے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2جنوری کو دن دیہاڑے نیچاری روڈ سے بی این پی کے یونٹ سیکرٹری قاضی نعمت اللہ نیچاری اور ان کے ایک ساتھی کو اٹھایا گیا جو کئی دن گزرنے کے باوجود تاحال وہ لاپتہ ہیںجس کے نتیجے میں ان کے اہل خانہ کو شدید تشویش اور پریشانی کا سامنا ہے قاضی جمعہ خان کے ساتھی کو اسی دوران چھوڑ دیا گیا لیکن قاضی نعمت اللہ نیچاری تاحال لاپتہ ہیں بلوچستان میں آج بھی ماروائے آئین وقانون جبری گمشدگیوں کا دور دورا ہے آئے روز بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لوگوں کو اٹھایا جانا روز کا معمول بن چکا ہے موجودہ نام نہاد دور حکومت میں بھی ایسے غیر آئینی وغیر جمہوری اقدامات اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ آج بھی بلوچستان کے معاملات ان قوتوں کے ہاتھوں میں ہیں جوگزشتہ کئی عشروں سے بلوچستان کی معاملات کو چلارہے ہیں مقررین نے کہا کہ ملک کی آئین اور قوانین موجود ہیں۔
اگر کسی بھی شہری پر کسی قسم کا کوئی جرم ہے تو انہیں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ لواحقین کے تشفی ہو لیکن جس انداز میں بلوچستان میں سنگین انسانی حقوق کی پامالیاں جادر اور چاردیوانی کی پامالی خوف وہراس دھونس دھمکیوں کے ذریعے سے یہاں کے پرامن حالات خراب کرنا کسی بھی فریق کیلئے سود مند نہیں ہے آج بلوچستان جس سیاسی بحرانی کیفیت سے دوچار ہے بلوچستان کے حالات مزید خراب کرنے کی صورت میں یہاں کے لوگوں میں احساس محرومی میں اضافہ کا سبب بنے گا مقررین نے مطالبہ کیا کہ قاضی نعمت اللہ نیچاری کو فوری طور پر بازیاب کرکے منظر عام پر لایا جائے بی این پی اپنے رہنماء کی بازیابی تک جدوجہد کی خاطر تمام آئینی قانونی سیاسی جمہوری جدوجہد کے ذرائع استعمال کرتے ہوئے جدوجہد کرینگے بی این پی کے کارکنوں اور رہنمائوں کو دیوار سے لگانے کا سلسلہ پرویز مشرف کی آمریت کے دورسے جاری ہے جس کے نتیجے میں پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل حبیب جالب بلوچ سے لیکر 90کے قریب سیاسی رہنمائوں اور کارکنوں کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے سے ظلم وجبر قومی حقوق کی جدوجہد کے راستے ہٹانے کی گناونی کوشش کی گئی تاکہ بلوچستان کی سائل وسائل اور جملہ حقوق کے خلاف ہونے والے موثر آواز کو طاقت کے ذریعے دبایا جاسکے۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ بی این پی کے نہتے کارکنوں نے ہر آمریت اور استحصالی قوتوں کے سامنے سرخم تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے حق اور سچائی کیلئے آواز بلند کی اور اپنے قومی حقوق سائل وسائل کی دفاع کیلئے کسی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کیا مقررین نے کہا کہ آج بھی بلوچستان سائل وسائل جس میں ریکوڈک شامل ہے یہاں کے عوام کی مرضی ومنشا کو شامل کئے بغیر جس منصوبے اور معاہدے کو آگے بڑھایا جارہاہے وہ یہاں کے بلوچوں کیلئے ناقابل قبول ہے ہم ترقی کے ہر گز مخالف نہیں ہے لیکن دنیا میں کہی بھی ایسے ترقی کے مثال موجود ہیں کہ وہاں کے حقیقی فرزندوں کو نظرانداز اور انہیں اعتماد میں لئے بغیر منصوبے شروع کیے جاسکے ۔
جس ترقی سے مقامی لوگ مستفید نہیں ہوسکتے ہیں مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں اور ملکی سطح میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے سب سے زیادہ بی این پی کے اکابرین نے آواز بلند کی ہے اور اس سلسلے میں پارٹی کے قائد سردار اختر جان مینگل نے سپریم کورٹ میں پیش ہوکر لاپتہ افراد کی بہتر انداز میں بازیابی کے حوالے سے موقف پیش کی اور اس کے بعد مختلف فورمز میں بھی اس سلسلے میں آواز بلند کی پی ٹی آئی حکومت کے حکومت کی اسی بنیاد پر حمایت کی کہ وہ بلوچستان سے ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ افراد کو بازیاب کرینگے جن 6نکات کا پی ٹی آئی کے ساتھ معاہدے کیا اس سر فہرست لاپتہ افراد کی بازبی شامل تھی مگر دو سال کے بعد وفاقی حکومت نے اپنے وعدے وفا نہیں کی جس کے نتیجے میں بی این پی نے حکومت کے اتحاد سے اپنا راستہ الگ کردیا۔
حالانکہ بی این پی کیلئے یہ بہترین موقع تھا کہ وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے بجائے شراکت اقتدار کا حصہ بن کر مراعات وزارتیں حاصل کرتے لیکن بی این پی نے ایسا نہ کرکے نیا پارلیمانی تاریخ رقم کی جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی مقررین نے انتظامیہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بی این پی ایک موثر یہاں کے عوام کے نمائندہ سیاسی جمہوری، پارلیمانی پارٹی ہے یہاں کے عوام کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی ناانصافی رات کے اندھیرے میں انسانی حقوق کی پامالی جادر اور چاردیواری کی تقدس برداشت نہیں کرینگے بی این پی اپنے کارکنوں کے حفاظت اوران کے بنیادی حقوق کے حصول پر کسی قسم کی سودا بازی نہیں کرینگے ۔