|

وقتِ اشاعت :   March 18 – 2022

گورنر سندھ عمران اسماعیل سمیت دیگر پاکستان تحریک انصاف کے دیگررہنما عامر لیاقت کو منانے کے دوران عجیب صورتحال میں مبتلا ہوگئے، ان کے اپنے ساتھی اور معروف صحافی بھی فوری طور پر کوئی یقین دہانی کروانے میں ناکام رہے۔

رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ بات یقینی بنانے کی کوشش کی کہ عامر لیاقت حسین، وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن تحریک عدم اعتماد حمایت نہیں کریں گے۔

عامر لیاقت کا کہنا تھا کہ انہوں نے اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

انہوں نے یاددہانی کروائی کہ انہوں نے ہمیشہ خود کو بانی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) الطاف حسین سے منسلک رکھا ہے۔

میڈیا سےگفتگو میں گورنر سندھ نے عامر لیاقت سے گفتگو کی لیکن پی ٹی آئی کے قانون ساز متاثر نہیں دیکھ رہے تھے تاہم انہوں نے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر عامر لیاقت کے مؤقف پر وضاحت دینے سے گریز کیا۔

عامر لیاقت نے کہا کہ ‘اگر آپ مجھے سے عدم اعتماد کی تحریک پر میرے ووٹ کے بارے میں پوچھیں تو میں کہوں گاکہ میں نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں لیا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں نے فیصلہ کرونگا اور وقت آنے پر اپنے فیصلے سے آگاہ کرونگا کہ میں عمران خان کےساتھ ہوں یا نہیں، آپ میرے سوال کا جواب کا انتظار کریں، میری وابستگی کا تعلق تو ہمیشہ ہی الطاف حسین کےساتھ رہا ہے’۔

ان کے مختصر، مضبوط سوالات کے جوابات گورنر سندھ عمران اسماعیل کی جامع گفتگو کے چند لمحات بعد سامنےآئے۔

گورنر سندھ عامر لیاقت کو ‘اصول پسند شخص’ قرار دیتے ہوئےکہا کہ وہ اپنی وفاداری ہرگز تبدیل نہیں کریں گے، اور یہی وجہ ہے کہ میں آج یہاں ان کی رہائش گاہ پر موجود ہوں۔