الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 6 ستمبر کے جلسے میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان اور دیگر وزرا و مشیروں سمیت کابینہ کے متعدد ارکان پر پچاس، پچاس ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا۔
رپورٹ مطابق این اے-31 پشاورمیں ہونے والے پی ٹی آئی جلسے میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر شہاب الدین نے جرمانہ عائد کیا، انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان اور دیگر وزرا تیمور خان جھگڑا، اشتیاق عمر، شوکت یوسفزئی اور کامران خان بنگش، انور زیب خان، محمد اقبال وزیر اور وزیراعلیٰ خلیق الرحمان اور وزیرآباد کے معاونین پر الگ الگ جرمانے عائد کیے۔
ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر نے 6 ستمبر کو ریلی کے انعقاد کے بعد 7 ستمبر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔
ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر کا کہنا تھا کہ ویڈیوز، تصاویر اور نیوز کلپ میں موجود شواہد کی جانچ پڑتال اور مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ کے بعد ثابت ہوا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، کابینہ کے ارکان، مشیروں اور معاونین خصوصی سمیت متعدد سرکاری عہدیداروں نے ضابطہ اخلاق کے پیراگراف نمبر 17(بی) کی خلاف ورزی کی ہے۔
ضابطہ اخلاق کے پیراگراف نمبر 17 (بی) میں کہا گیا ہے کہ ’عوامی عہدیدار بشمول صدر، وزیراعظم، چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین سینیٹ، تمام اسمبلیوں کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر، وفاقی وزرا، وزرائے مملکت، گورنر، وزیراعلیٰ، صوبائی وزرا اور وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے مشیر کسی بھی امیداوار کے جلسے میں شرکت نہیں کرسکتے۔
ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا کہ پشاور جلسے میں سرکاری وسائل بھی استعمال کیے گئے۔
ضابطہ اخلاق کے پیراگراف 30 میں لکھا ہے کہ ’وفاق اور صوبوں میں ایگزیکٹو اتھارٹی اور مقامی حکومت کے منتخب نمائندے مخصوص امیدوار یا سیاسی جماعت کے انتخابات کے لیے یا کسی پارٹی کا امیدوار غیر ضروری اثر و رسوخ استعمال کرکے سرکاری وسائل کا استعمال نہیں کر سکتے۔
حکم نامے میں لکھا ہے کہ ‘الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 234(3) کے تحت الیکشن رولز 2017 کے ضابطے نمبر 171 (3) میں ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر کے دستخط شدہ تحریری حکم نامے میں عمران احمد اور پشاور کے این اے 31 کے امیدوار پر 50 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔’
شہاب الدین نے جواب دہندہ کے وکیل کے دلائل بھی سنے، وکیل کا تحریری جواب میں کہنا تھا کہ مذکورہ ریلی پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ماضی وفاقی حکومت کے خلاف احتجاجی ریلیوں کا تسلسل ہے اس لیے حالیہ ریلی کو ضمنی انتخابات کی مہم کا حصہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جلسے کا مقام پشاور (V) این اے 31 کی حدود میں نہیں آتا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ریلی کے انتظامات یا عوامی عہدیداروں کی شرکت کے لیے سرکاری وسائل کا استعمال کو میرے فریق کے ساتھ منسوب نہیں کیا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ جلسہ کرنا الیکشن کے تمام امیداواروں کا آئینی حق ہے۔
پشاور جلسے سے ایک روز قبل ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر نے گورنر، وزیراعلیٰ، صوبائی وزرا اور مشیروں سمیت حکومتی عہدیدار کو ریلی میں شرکت نہ کرنے کی ہدایت کی تھی، انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگرانہوں نے ریلی میں شرکت کی تو یہ عمل ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہو گی اور ان سب کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔