|

وقتِ اشاعت :   November 29 – 2022

کوئٹہ: بلوچستان کے سیاسی رہنماؤں،ادیبوں اور دانشوروں نے ڈاکٹر کہور خان کو ان کے سیاسی و سماجی جدوجہد پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر کہور خان اپنے نظریات پر آخر دم تک قائم رہے۔ طلبا کی شعوری جدوجہد کو محنت کش طبقے کی فکری جدوجہد سے جوڑنے اور خطے کی سیاسی سماجی جدوجہد میں ان کاکردار ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔

ان خیالات کا اظہار نیشنل پارٹی کے سربراہ وسابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ، چیئرمین بلوچی اکیڈمی سنگت رفیق بلوچ، ڈاکٹر عبدالحکیم لہڑی ، ممتاز یوسف ، انجینئر صدیق کھیتران ، وحید زہیر ، سعید کرد ، کامریڈ علی رضا منگول ، نور احمد قاضی ، ڈاکٹر امداد بلوچ ، شاہ بیگ شیدا ، میڈم نور جہاں کہور بالاچ ، قادر جیئند بلوچ ، ابرار برکت ، ڈاکٹر کہور خان کی بیٹیوں در بی بی کہور اور برمش کہور نے مکتبہ یوسف عزیز مگسی کے زیراہتمام ڈاکٹر کہور خان بلوچ کی برسی کے موقع بلوچی اکیڈیمی میںمنعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے ڈاکٹر کہور خان بلوچ کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انسانی زندگی ایک مختصر عرصے پر محیط ہوتی ہے، انسان اس دنیا میں آتے اور چلے جاتے ہیں ،ڈاکٹر کہور خان جو کل ہمارے ساتھ تھے آج ہمارے درمیان نہیں لیکن انہوں نے اپنی مختصر سی زندگی میں ہمارے خطے میں سماج کو آگے بڑھانے کے لئے مثبت رول ادا کیا اور اپنی علمی قابلیت کی بدولت ایک مکتبہ فکر کی حیثیت حاصل کی۔ انہوںنے کہا کہ ڈاکٹر کہور خان ایک ایسے عہد میں ایک دانشور کے طور پر ابھرے جب دنیا دو بلاکوں میں تقسیم تھی ۔

وہ فکری طور پر مارکسسٹ مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے تھے ، وہ سوال کو اہمیت دیتے تھے اور وہ سوالوں کے جوابات تلاش بھی کرتے تھے۔ انہوں نے علم و دانش کے ذریعے سیاست و ادب کے میدان میں اپنا مقام خود بنایا۔ بلوچ طالبعلموں کو شعوری تربیت سے دی ،طلبا کی شعوری جدوجہد کو محنت کش طبقے کی فکری جدوجہد سے جوڑا ،ان کا ہمارے خطے کی سیاسی سماجی جدوجہد میں کردار ہمیشہ یاد رکھا جائیگا ، وہ علم عقل و شعور کے لحاظ سے پختہ رہنما تھے۔ انہوں نے اپنی علمی و شعوری کردار سے ثابت کیا کہ انسان کے مرنے سے نظریات نہیں مرتے ، بلوچستان کے عوام و محنت کشوں کی جدوجہد میں ان کے نظریات کا رہنما کردار ہے۔ انہوں نے نظریات کو نیچر کے ساتھ جوڑا اور انسان کے نیچر کے ساتھ یکساں طور پر نشوونما کی ضرورت پر زور دیا ساتھ ہی سرمایہ داری کی مشینری کے تحت دوسروں کو کچل کر آگے بڑھنے کے عمل کو نیچر سے متصادم گردانا ،انہوں نے مقدار پر کوالٹی کو فوقیت دینے کی بات کی وہ سماجی ارتقا کے لئے تمام قوموں اور طبقات کی مشترکہ جدوجہد پر زور دیتے اور اختلاف رائے کو اہمیت دیتے تھے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کہور خان اپنے نظریات پر آخر دم تک قائم رہے۔