|

وقتِ اشاعت :   January 30 – 2023

خیبر پختونخوا کے دار الحکومت پشاور میں پولیس لائنز کے قریب واقع مسجد میں ہونے والے دھماکے میں 28 افراد شہید اور 150 شہری زخمی ہوگئے جب کہ مزید اموات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ڈپٹی کمشنر پشاور نے بتایا کہ پشاور خود کش دھماکے میں 28 افراد شہید ہوئے جب کہ 120 شہری زخمی ہوئے ہیں۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر سی) کے ترجمان محمد عاصم نے غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پشاور پولیس لائنز دھماکے میں 19 افراد شہید اور 90 سے زیادہ زخمی ہوئے جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔

پولیس چیف پشاور محمد اعجاز خان نے غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے گفتگو میں چند ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہنگامی صورتحال ہے۔

دھماکے کی اطلاع کے فوری بعد پشاور کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی جب کہ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے شہریوں سے خون کے عطیات دینے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔

یر ملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کو مقامی پولیس حکام نے بتایا کہ پشاور میں دھماکا مسجد میں وقت ہوا، جس کے نتیجے میں کم از کم 90 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

محمد عاصم نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور صرف ایمبولینس اور امدادی کاموں میں مصروف اہلکاروں کو علاقے میں داخل ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

پولیس اہلکار سکندر خان نے بتایا کہ دھماکے کے باعث عمارت کا ایک حصہ گر گیا ہے اور خدشہ ہے کہ کئی افراد ملبے کے نیچے دبے ہو سکتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق دھماکا تقریباً ایک بج کر 40 منٹ پر اس وقت ہوا جب ظہر کی نماز ادا کی جا رہی تھی، دھماکا شدید نوعیت کا تھا جس کے باعث مسجد کی چھت اور دیوار منہدم ہوگئی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو پولیس حکام نے بتایا کہ دھماکا مسجد میں اس وقت ہوا جب بڑی تعداد میں افراد نماز ادا کررہے تھے۔

دھماکا پشاور کے ریڈ زون میں ہوا جہاں گورنر ہاؤس سمیت اہم سرکاری عمارتیں اور دفاتر موجود ہیں۔

دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوع کو گھیرے میں لے لیا ہے جب کہ امدادی کارروئیاں جاری ہیں، دھماکے میں متعدد شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جنہیں طبی امداد فراہم کرنے کے لیے قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

اظہار مذمت

وزیراعظم شہبازشریف نے پولیس لائنز پشاور کی مسجد میں خود کش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کا ناحق خون بہانے والوں کو عبرت کا نشان بنائیں گے۔

وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان میں وزیر اعظم نے کہا کہ اللہ تعالی کے حضور سربسجود مسلمانوں کا بہیمانہ قتل قرآن کی تعلیمات کے منافی ہے، اللہ کے گھر کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ حملہ آوروں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، دہشت گرد پاکستان کے دفاع کا فرض نبھانے والوں کو نشانہ بنا کر خوف پیدا کرنا چاہتے ہیں،پاکستان کے خلاف جنگ کرنے والوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ شہریوں کا ناحق خون بہانے والوں کو عبرت کا نشان بنائیں گے، دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پوری قوم اور ادارے یکسو اور متحد ہیں،پوری قوم اپنے شہدا کو سلام عقیدت پیش کرتی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن وامان کی بگڑتی صورتحال پر جامع حکمت عملی اپنائیں گے، وفاق صوبوں کی انسداد دہشت گردی کی صلاحیت بڑھانے میں تعاون کرے گا۔

وزیراعظم نے وفاقی وزیر داخلہ کو ہدایت کی کہ صوبوں بالخصوص خیبرپختونخوا کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی صلاحیت بڑھانے میں مدد فراہم کریں۔

وزیر خارجہ اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ضمنی اور عام انتخابات سے قبل دہشت گردی کے واقعات معنی خیز ہیں، دہشتگردوں ،ان کے سرپرستوں اورسہولت کاروں کے خلاف سخت کاروائی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان ہی دہشتگردوں کا علاج ہے اس پر سختی سے عمل کیا جائے گا، پیپلزپارٹی کے کارکن اور عہدے دار خون کے عطیات دیکر زخمیوں کی جان بچائیں۔

وفاقی وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ پشاور میں دہشت گردی کے واقعہ پر دل غمزدہ ہے، انہوں نےجاں بحق اور زخمیوں ہونے والوں کے خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا اوراللہ تعالیٰ سے شہداکے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی ۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پولیس لائن پشاور کی مسجد میں دورانِ نماز دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میری دعائیں اور ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کےساتھ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے لازم ہےکہ ہم اپنی انٹیلی جنس میں بہتری لائیں اور اپنی پولیس کومناسب انداز میں ضروری ساز و سامان سےلیس کریں۔

اسلام آباد میں سیکیورٹی ہائی الرٹ

پشاور میں دھماکے کے بعد اسلام آباد پولیس نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خان نے دارالحکومت میں ’سیکیورٹی ہائی الرٹ‘ رکھنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

اسلام آباد پولیس نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ بڑھا دی گئی ہے، سیف سٹی کے ذریعے مانیٹرنگ کی جارہی ہے، اہم ناکہ جات اور عمارتوں پر اسنائپرز تعینات کر دیے گئے ہیں، اسلام آباد کیپیٹل پولیس تھرمل امیجنگ کی صلاحیت سے لیس ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ شہری دوران سفر اپنے شناختی دستاویزات ہمراہ رکھیں، شہری دوران چیکنگ پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔

نوٹ: یہ ابتدائی خبر ہے جس میں تفصیلات شامل کی جا رہی ہیں۔ بعض اوقات میڈیا کو ملنے والی ابتدائی معلومات درست نہیں ہوتی ہیں۔ لہٰذا ہماری کوشش ہے کہ ہم متعلقہ اداروں، حکام اور اپنے رپورٹرز سے بات کرکے باوثوق معلومات آپ تک پہنچائیں۔

Trackbacks/Pingbacks

  1.  پشاور دھماکا: خودکش حملہ آور مسجد کی پہلی صف میں تھا، سکیورٹی حکام – روزنامہ آزادی | Daily Azadi, Quetta

Comments are closed.