|

وقتِ اشاعت :   February 6 – 2023

لاہور ہائی کورٹ نے گھریلو صارفین کو500 یونٹس تک سبسڈی دینے کا حکم دے دیا۔

جسٹس علی باقرنجفی نےاظہرصدیق سمیت دیگرکی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے بجلی بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کو بھی غیر قانونی قرار دیا۔

عدالت نے وفاقی حکومت کو متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

یاد رہے کہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز وصول کرنے کا اقدام لاہورہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وفاقی حکومت نے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ کی منظوری دی،بجلی بلز میں فیول ایڈجسٹمنٹ قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں ۔عدالت بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ کو کالعدم قرار دے۔

فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو سمجھنے کے لیے ایکچوئل فیول کاسٹ ( ایک ماہ میں ایندھن پر آنے والی لاگت) اور ریفرنس فیول کاسٹ سمجھنا ضروری ہے۔

ہر مالی سال کے آغاز میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) ایک ریفرنس فیول کاسٹ دیتا ہے۔ یعنی ایک ایسا حوالہ جس سے ہر ماہ ایندھن پر آنے والی کل لاگت کا موازنہ کیا جا سکے۔

ایک مہینے میں بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے ایندھن کی کُل لاگت (باسکٹ فیول کاسٹ) دراصل ملک میں توانائی کے مختلف ذرائع میں استعمال ہونے والے ایندھن (جیسے کوئلہ، ایل این جی، فرنس آئل) پر آنے والی لاگت کے اعتبار سے نکالی جاتی ہے۔