|

وقتِ اشاعت :   April 21 – 2024

بلوچستان کابینہ کی حلف برداری تو ہوگئی مگر وزارتوں کے قلمدانوں کا فیصلہ تاحال نہیں ہوسکا۔ بلوچستان کابینہ کی تشکیل اور وزارتوں کے قلمدان سونپنے میں بہت زیادہ تاخیر کی جارہی ہے جو کہ نہیں ہونا چاہئے۔ جب کابینہ اراکین کے نام دیدیئے گئے اور حلف بھی لے لیا گیا تو قلمدان بھی سونپ دیئے جاتے تاکہ بلوچستان حکومت اپنا کام شروع کرسکتا۔ بلوچستان میں من پسند وزارتوں، فنڈز، اختیارات کے معاملے پر ہمیشہ تلخی دیکھی گئی ہے۔ ایک ہم آہنگی جو بڑے صوبے کو چلانے کیلئے درکار ہے یہ کبھی بھی نہیں دیکھنے میں آئی، کابینہ سمیت حکومتی ارکان کے درمیان کشیدگی دیکھی گئی، وزراء اعلیٰ سے بھی تلخیاں سامنے آتی رہی ہیں جس کی وجہ سے بلوچستان میں صوبائی حکومتیں زیادہ دیر تک نہیں چلیں۔

بیشتر حکومتی جماعت کے وزراء کو اپنی جماعت کے اندر اور باہر سے اتحادیوں سمیت اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جواز ایک ہی رکھا گیا کہ وزیراعلیٰ سب کو ساتھ لیکر نہیں چلتے، من پسند نمائندگان کو ان کی پسند کے وزارت سمیت حد سے زیادہ فنڈز اور اختیارات دئے جاتے رہے ۔ اب یہ بات کہاں تک درست ہے اس پر یقین کرنا مشکل ہے کیونکہ جو شکوہ کرتے دکھائی دیئے انہیں وزارت اور فنڈز ملتے رہے مگر ان کے حلقے سب سے زیادہ پسماندہ ہیں جہاں آج بھی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ بلوچستان کی محرومی و پسماندگی کی ایک بڑی وجہ وژن کا نہ ہونا بھی ہے ۔

ذاتی مفادات بھی ترجیحات میں رہے ہیں جس کی وجہ سے بلوچستان ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ موجودہ نئی حکومت کے سامنے ماضی کے تلخ تجربات موجود ہیں انہیں مد نظر رکھتے ہوئے ایک وسیع سوچ جو بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ہونا چاہئے اسے اپنانے کی ضرورت ہے اور یہ اہم ذمہ داری صوبے کے ایگزیکٹیو وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے کاندھوں پر ہے ان کے پاس وسیع سیاسی تجربہ موجود ہے اور وہ معاملات کو ڈیل کرنے کے ساتھ سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی امور پر گرفت رکھتے ہیں امید یہی ہے کہ وہ اپنی کابینہ کے اراکین کو تجربات اور ماہرانہ سوچ کے ساتھ لے کر چلینگے تاکہ بلوچستان میں سیاسی معاملات سر نہ اٹھائیں جو معیشت سمیت دیگر معاملات پر منفی اثرات کا سبب بنتے ہیں۔ بہرحال بلوچستان کی 14 رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے، گورنر ملک عبدالولی کاکڑ نے وزراء سے حلف لیا۔مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین پر مشتمل کابینہ نے حلف لیا۔حلف اٹھانے والے وزراء میں میر صادق عمرانی ،علی مدد جتک ،ظہور بلیدی ،نور محمد دمڑ ،سردار فیصل جمالی ،سردار سرفراز ڈومکی ، سردار عبدالرحمان کھیتران ،میر سلیم احمد کھوسہ ، میر عاصم کردگیلو ،بخت کاکڑ،نواب زادہ طارق مگسی ، میر شعیب نوشیروانی ، راحیلہ حمید درانی اور میر ضیا اللہ لانگو شامل ہیں۔ کابینہ میں بیشتر سینئر سیاستدان شامل ہیں اور ان میں زیادہ تر ماضی میں بھی وزارتوں سمیت دیگر عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سے یہی امید و توقع ہے کہ ان کی ترجیح بلوچستان کے اہم مسائل کا حل ہوگا اور اپنی ٹیم کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ کام کرینگے پسند و نا پسند کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کرینگے اور نہ ہی کسی وزیر کی ذاتی خواہش پوری کرینگے بلکہ میرٹ کے ساتھ گورننس کو ترجیح دینگے۔