ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے اثرات اب بلوچستان پر بھی نمایاں ہونے لگی ہیں۔
ایران سے ملحقہ بلوچستان کے سرحدی علاقے طویل عرصے سے ایرانی پیٹرول کی اسمگلنگ کا اہم مرکز سمجھے جاتے تھے تاہم ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے باعث پاک-
ایران سرحدی کراسنگ پوائنٹس کی بندش سے یہ سارا کاروبارٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔
صوبہ بھر میں ایرانی پٹرول نایاب ہو چکا ہے۔ کوئٹہ میں متعدد منی پٹرول پمپس بھی بند ہو چکے ہیں جس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایل پی جی گیس کی قلت کا بھی خطرہ ہے جس کے باعث اس کے ریٹس بھی بڑھنے والے ہیں۔
کوئٹہ کی مارکیٹوں میں ایرانی اشیاء کی شدید قلت کے باعث ان کی قیمتیں دْگنی ہوگئی ہیں، ایران اسرائیل جنگ سے قبل کوئٹہ میں ایرانی اشیائے خورونوش کی فروخت عام تھی، شہر کے مختلف علاقوں کی مارکیٹوں اور دکانوں میں ایرانی کوکنگ آئل، گھی، بسکٹ، خشک میوہ جات، کمبل، دہی، لسی اور دیگر اشیاء بآسانی دستیاب تھیں تاہم اب پاک-
ایران سرحد کی بندش سے نہ صرف ان اشیاء کی قلت پیدا ہونے لگی ہے بلکہ قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
بلوچستان کے سرحدی علاقے بہت زیادہ متاثر ہیں کیونکہ سرحدی علاقوں میں شہریوں اور کاروباری افراد کا تمام تر معاشی انحصار ایران پر ہے جہاں سے پیٹرولیم مصنوعات سمیت دیگر اشیاء لائی جاتی ہیں جن سے وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ملک کے دیگر حصوں میں فروخت بھی کرتے ہیں ۔
اب اسرائیل ایران تنازعہ کی وجہ سے ایرانی اشیاء کی ترسیل بند ہوچکی ہے جس سے سرحدی علاقوں سمیت ملک کے دیگر حصے بھی متاثر ہیں جو اس کاروبار سے منسلک ہیں اور جو شہری خریدار ہیں۔
بہرحال اس جنگ کی وجہ سے چند ہفتوں میں ایرانی اشیاء مکمل ناپید ہو جائیں گی جس کے معاشی اثرات سرحدی علاقوں پر زیادہ پڑینگی۔
ان حالات کے پیش نظر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہاہے کہ ایران سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں پیڑول سمیت دیگر اشیا کی قلت ہونے نہیں دیں گے ،یہ بات انہوں نے جمعہ کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں کہی۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ایران اسرائیل جنگ سے ایک بحرانی صورتحال ہے ، میں گوادر گیا تھا وہاں بھی لوگوں نے اس جانب توجہ دلائی ، میری وفاقی وزیر پیڑولیم سے بات ہوئی ہے ، وہاں پیڑول سمیت دیگر اشیا ء کی قلت ہونے نہیں دیں گے اس کے لئے ایمرجنسی لگانی پڑی یا جو بھی اقدامات کرنے پڑے ،کریں گے۔
بارڈرایریا میں کھانے پینے کی اشیاء کی کمی نہیں ہونے دیں گے۔
بہرحال وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے اس میں وفاقی حکومت بلوچستان کی صوبائی حکومت سے ہر قسم کا تعاون کرے تاکہ بلوچستان میں بحرانی کیفیت سے بروقت نمٹا جاسکے کیونکہ ایران ،اسرائیل جنگ مزید شدت اختیار کرتی جارہی ہے جس سے بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں خوراک سمیت دیگر چیزوں کی قلت پیدا ہوگی جس سے لوگوں کی بڑی تعداد متاثر ہوگی ۔
امید ہے کہ بلوچستان حکومت کے ایمرجنسی پر وفاقی حکومت تمام تر وسائل بروئے کار لائے گی تاکہ سرحدی علاقوں کے لوگ متاثر نہ ہوں۔