|

وقتِ اشاعت :   June 23 – 2025

صدر مسعود پزشکیان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگرچہ ایران امن کا خواہاں ہے، لیکن وہ جارحیت کرنے والوں کو ان کے اقدامات پر پشیمان کر دے گا، اور ان کا اشارہ صہیونی حکومت اور امریکا کی طرف تھا۔

پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اتوار کو وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں ڈاکٹر پزشکیان نے ایران کی ایٹمی تنصیبات (اصفہان، نطنز اور فردو) پر حالیہ امریکی فوجی جارحیت کی شدید مذمت کی اور خبردار کیا کہ اس جارحیت کے خلاف ایران جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

صدر نے ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ ایٹمی مذاکرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں امریکا نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کا مقصد صرف ایران کے جوہری پروگرام کی پُرامن نوعیت کو یقینی بنانا ہے، اور ایران نے اس مقصد کا خیرمقدم کرتے ہوئے مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ واضح ہو گیا کہ امریکا مکمل طور پر صہیونی حکومت کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہا ہے، تاکہ ایران کو مذاکرات سے انکار کرنے والا فریق ظاہر کیا جا سکے۔

ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے زور دے کر کہا کہ اسرائیلی حکومت نے امریکا کی حمایت اور اجازت سے 13 جون کو ایران پر جارحیت کی، جس میں سیکڑوں افراد شہید ہوئے، جن میں عام شہری، فوجی کمانڈر اور جوہری سائنسدان شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا اور کبھی نہیں چاہے گا، یہ اسرائیل ہے جو اپنی جارحانہ کارروائیوں کے ذریعے خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔