کوئٹہ: پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی آرگنائزر سیف اللہ خان نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے جامعہ بلوچستان میں پشتو، براہوئی اور بلوچی ڈیپارٹمنٹ کو ختم کرنے اور زرعی کالج کی عمارت کو کسی صورت رینٹ آؤٹ نہیں ہونے دے گی
اس کے خلاف احتجاج کا آئینی اور قانونی حق محفوظ رکھتے ہیں۔
مادری زبانوں کو ختم کرنے اور یونیورسٹی کی بندش، امتحانات کے ملتوی کرنے کی مذمت کرتے ہیں اس کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی زونل ضلع کوئٹہ اور کوئٹہ یونیورسٹی کے عہدیداران، اراکین اسفند یار، محمود خان، نور خان اور وارث افغان سمیت دیگر کے ہمراہ منگل کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی کی جانب سے امتحانات کو ملتوی کرکے یونیورسٹی میں تعطیلات کرنے کے عمل کی شدید مذمت کرتے ہیں 2 جولائی کو چند طلباء کے درمیان ہونے والے جھگڑے کے بعد پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار)، پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے ذمہ داران کی موجودگی میں میڑھ معرکہ کے ذریعے مسئلے کو حل کیا گیا
لیکن پشتون بلوچ روایات کو پیروں تلے روندتے ہوئے چند عناصر نے پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ساتھیوں پر حملہ کیا اور 5 طلباء کو زخمی کیا جس کو سیکورٹی کی کمزوری اور سوچی سمجھی سازش سمجھتے ہیں اور اس عمل کو جواز بناکر ہاسٹل اور یونیورسٹی کو بند کرکے امتحانات ملتوی کرنا انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتا ہے ان منفی ہتھکنڈوں سے ہم پر امن ماحول کو خراب نہیں ہونے دیں گے اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ہاسٹل کو کھول کر امتحانات جاری
شیڈول کے مطابق لئے جائیں اور یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیاں بحال کی جائیں تاکہ طلباء کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو حالانکہ اساتذہ کو تنخواہوں کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی بند رہتی ہے ان کے الاؤنسز کاٹ دیئے جاتے ہیں اسکالر شپس اسکیمات ختم کی جارہی ہے گزشتہ پانچ سالوں سے فیسوں میں 300 فیصد اضافہ کیا گیا
اور کچھ د نوں سے پشتو، براہوی اور بلوچی ڈیپارٹمنٹ کو ختم کرکے انہیں ایک ڈیپارٹمنٹ میں ضم کرنا مادری زبانوں اور قوموں کی ترقی کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہے حالانکہ ترقی یافتہ ممالک میں مادری زبانوں کا احترام کیا جاتا ہے انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کے پشتو ڈیپارٹمنٹ میں 35 ایم فل کے اسکالرز 10 پی ایچ ڈی کے اسکالر انرول ہے جو اپنے ریسرچز کنڈیکٹ کررہے ہیں
جو ان کے ساتھ زیادتی ہے اور زرعی کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا لیکن نئی تعمیر شدہ عمارت کو زرعی کالج کی عمارت کو ایک سازش کے تحت رینٹ آؤٹ کرنے کی سازش کی جارہی ہے اور نیو ٹیک کو دینا سراسر تعلیم دشمنی کے مترادف ہے جس ہم اجازت نہیں دیں گے اس کے خلاف ہم ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے اور احتجاج کریں گے۔