کوئٹہ: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی کابینہ کا اجلاس زیر صدارت مرکزی چیئرمین بالاچ قادر کے منعقد ہوا۔
اجلاس کی کارروائی مرکزی سیکریٹری جنرل صمند بلوچ نے چلائی۔ اجلاس میں مرکزی سینئر وائس چیئرمین نذیر بلوچ، جونیئر وائس چیئرمین عامر نذیر بلوچ، سینئر جوائنٹ سیکریٹری مقبول بلوچ اور مرکزی سیکریٹری اطلاعات شکور بلوچ نے شرکت کی۔
اجلاس کا باقاعدہ آغاز شہدائے بلوچستان کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی سے کیا گیا اور ان کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اجلاس میں تنظیم کاری، سیاسی صورتحال، پالیسی سازی، آئندہ کا لائحہ عمل سمیت مختلف ایجنڈے زیرِ بحث رہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء کا کہنا تھا کہ بلوچ عوام اور بالخصوص سیاسی کارکن بدترین کریک ڈاؤن کا سامنا کر رہے ہیں۔ جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل اور بیبنیاد مقدمات جبر کی وہ شکلیں ہیں جو بلوچ سیاسی شعور کو کچلنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر نوجوانوں کو اْٹھایا جا رہا ہے، لاپتہ افراد کی فہرست طویل ہوتی جا رہی ہے، اور ان کے لواحقین انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔
شرکاء نے واضح کیا کہ ایک منصوبہ بند حکمت عملی کے تحت بلوچستان میں سیاسی سرگرمیوں کا گلا گھونٹا جارہا ہے۔
سیاسی کارکنوں، طلباء تنظیموں اور آزادیِ رائے سے وابستہ ہر آواز کو کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ پالیسیاں نہ صرف غیرجمہوری اور غیر آئینی ہیں بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے بھی منافی ہیں۔
شرکاء نے بلوچستان کے تعلیمی صورتحال کے زبوں حالی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ حالیہ اکنامک سروے 2024-25 میں بلوچستان کے اسکولوں سے متعلق جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، وہ اس امر کا ثبوت ہیں کہ تعلیمی شعبے کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
بلوچستان کے 60 فیصد سے زائد اسکولوں میں بجلی، پینے کے پانی، چاردیواری یا بیت الخلا جیسی بنیادی سہولیات میسر نہیں۔
ہزاروں اسکول صرف کاغذوں میں موجود ہیں اور اساتذہ کی خالی آسامیوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، جو بچوں کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل رہی ہے۔ جھالاوان میڈیکل کالج کے لیے حالیہ مالی بجٹ میں کوئی رقم مختص نہ کیے جانے پر بھی شدید تشویش ظاہر کی اور کہا کہ یہ عمل نہ صرف علاقے کے طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ اس سے حکومت کی تعلیم دشمن پالیسی واضح ہو جاتی ہے۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان کے تعلیمی شعبے کو ترجیح دی جائے،
اسکولوں کو فعال کیا جائے اور جھالاوان میڈیکل کالج کو فوری طور پر فنڈ فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنا تعلیمی و طبی کردار ادا کر سکے۔اجلاس میں کہا گیا کہ تنظیم کی حالیہ کارکردگی قابلِ تحسین ہے اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تنظیمی ڈھانچہ مضبوط ہو رہا ہے۔
کارکنان کی نظریاتی تربیت، ادارہ جاتی نظم و ضبط اور عوامی رابطہ کاری نے بی ایس او کو ایک بار پھر طلباء سیاست میں ایک فعال قوت کے طور پر منوایا ہے۔ اجلاس میں تنظیمی پھیلاؤ کو سراہا گیا اور کہا گیا کہ یہ پیشرفت بلوچ نوجوانوں کے اندر سیاسی شعور اور وابستگی کی علامت ہے۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ بی ایس او کو مزید فعال، مربوط اور جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔
تنظیمی اداروں کو خودمختار اور جوابدہ بنایا جائے گا، تاکہ ہر سطح پر فیصلہ سازی مضبوط اور شفاف ہو۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نظریاتی نشستوں، تربیتی ورکشاپس، اور سیاسی مطالعاتی سرگرمیوں کو فروغ دے کر تنظیمی کارکنان کی فکری سطح بلند کی جائے گی۔
ساتھ ہی ساتھ نئے کارکنان کی شمولیت کے لیے بھرپور مہم چلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔شرکاء کا مزید کہنا تھا کہ ڈسپلن کسی بھی انقلابی تنظیم میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
ایک ایسی تنظیم جو جبر اور استحصالی نظام کے خلاف برسرِپیکار ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کے کارکنان نظریاتی وابستگی کے ساتھ سخت تنظیمی نظم و ضبط کے پابند ہوں۔
کسی بھی غیر ذمہ دار رویے، ذاتی مفاد، یا غیر تنظیمی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔اجلاس میں تمام کارکنان کو تنبیہ کی گئی کہ وہ تنظیمی آئین، اصولوں اور اجتماعی فیصلوں کی مکمل پابندی کریں۔
ہر کارکن بی ایس او کا نمائندہ ہے، لہٰذا اس کا ہر عمل تنظیم کی ساکھ پر اثر انداز ہوتا ہے۔
نظم و ضبط کی خلاف ورزی کو قومی جدوجہد سے انحراف سمجھا جائے گا، اور ایسے عناصر کے خلاف سخت تنظیمی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ بی ایس او کی انقلابی روایت محفوظ رہے۔
شرکاء کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں بلوچستان یونیورسٹی میں پیش آنے والا واقعہ افسوسناک ہے۔
تنظیم نے اس واقعے کی سنجیدگی سے چھان بین کی ہے اور اس میں ملوث تنظیمی کارکنان کے خلاف کارروائی بھی کی گئی ہے۔
بی ایس او ایک بااصول اور نظریاتی تنظیم ہے جو ہر طرح کے ذاتی جھگڑوں، گروہی مفادات اور غیر سیاسی رویوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی۔
واقعے کے اسباب اور پس منظر کا تفصیل سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اصل محرکات سامنے لائے جا سکیں۔تاہم یہ واضح کیا گیا کہ اس ایک واقعے کو بنیاد بنا کر یونیورسٹی ہاسٹل کی بندش، طلباء کو بیدخل کرنا اور اجتماعی سزا دینا سراسر غیرمنصفانہ اور قابل مذمت ہے۔
ہاسٹل کا قیام تعلیمی ماحول کا لازمی جز ہے، اور اس کی بندش سینکڑوں طلباء کو ذہنی، جسمانی اور تعلیمی اذیت میں مبتلا کر رہی ہے۔ اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ تعلیمی اداروں میں سیاسی ماحول کو تباہ کرنے کی بجائے اسے فروغ دیا جائے، اور ہاسٹل کو فوری طور پر کھولا جائے تاکہ طلباء کی تعلیمی زندگی متاثر نہ ہو۔