تعلیم کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے سب سے زیادہ توجہ انسانی وسائل پر دی اور زیادہ تر وسائل جدید تعلیم پر لگائے ،آج وہ ٹیکنالوجی سمیت ہر شعبے میں ترقی کررہے ہیں ان کی معیشت آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔
ہمارے ملک میں یکساں نظام تعلیم پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی، سرکاری اسکولوں سمیت تعلیمی اداروں میں مالی مسائل اور دیگر بہت سے چیلنجز ہیں ۔
پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں غریب اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دلاسکتے کیونکہ ان کی معاشی حالت اتنی بہتر نہیں کہ وہ بھاری بھرکم تعلیمی اخراجات کا بوجھ اٹھا سکیں۔
موجودہ حکومت کی جانب سے تعلیم کے شعبے میں بہتری لانے کیلئے دانش اسکولوں کا قیام اندھیرے میں چراغ کی مانند ہے ۔
دانش اسکولوں میں بچوں کو مفت اور اعلیٰ تعلیم کے ساتھ رہائش و دیگر سہولیات فراہم کی جائینگی جس سے لاکھوں بچے جو اسکولوں سے باہر ہیں ان کو بہترین تعلیم کا موقع میسر آئے گا خاص کر بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے میں جہاں پہلے سے ہی لاکھوں بچے علم سے محروم ہیں۔
بلوچستان میں دانش اسکولوں کے قیام سے پسماندہ طبقے کے بچوں کی زندگی میں بڑی تبدیلی رونماء ہوگی ، وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے نہ صرف اپنا بہترین مستقبل بنائینگے بلکہ صوبے کی خدمت کا بھی انہیں موقع میسرآئے گا۔
وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت پی ایس ڈی پی کے تحت دانش اسکولوں کے لیے 50 فیصد فنڈ فراہم کر رہی ہے۔
گزشتہ روز اسلام آباد میں وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیرِ صدارت سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں تعلیم کے شعبے سے متعلق 19 ارب 25 کروڑ روپے مالیت کے 6 منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
اعلامیے کے مطابق منصوبوں میں قلعہ سیف اللہ، کان مہتر زئی، سبی، ڈیرہ بگٹی، موسیٰ خیل، ضلع ژوب اورآزاد کشمیر میں بھی دانش اسکولوں کا قیام شامل ہے، ہر منصوبہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان 50، 50 فیصد شراکت کے تحت مکمل ہو گا۔
وفاقی حکومت پی ایس ڈی پی کے تحت دانش اسکولوںکے لیے 50 فیصد فنڈ فراہم کر رہی ہے، حکومتِ بلوچستان نے دانش اسکولوں کے قیام کے لیے 50 فیصد حصہ ڈالنے کی یقین دہانی کرائی۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے تعلیمی وژن کے مطابق ملک میں معیاری تعلیم کے لیے دانش اسکولوں کا جال پھیلایا جا رہا ہے، پنجاب حکومت نے سب سے پہلے یہ ماڈل متعارف کرایا تھا۔
احسن اقبال کا کہنا ہے کہ دانش اسکول ملک کا سب سے بڑا فری بورڈنگ اسکول نیٹ ورک بن چکا ہے، پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں جو ایک سنگین قومی مسئلہ ہے، جب تک خواندگی کی شرح 90 فیصد تک نہیں پہنچتی ترقی ممکن نہیں۔
توقع یہی ہے کہ وفاقی اور بلوچستان حکومت کے اشتراک سے دانش اسکولوں کے قیام سے بلوچستان کو بہت زیادہ فائدہ پہنچے گا، بلوچستان کے بچوں کیلئے یہ ایک بڑا موقع ہے۔
امید ہے کہ والدین اپنے بچوں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے دانش اسکولوں سے بھر پورفائدہ اٹھائینگے تاکہ ان کی حالت زار میں تبدیلی آئے کیونکہ علم ہی زندگی میں تبدیلی لانے کا واحدراستہ ہے جو معاشرے میں مثبت رجحان کو پروان چڑھانے کے ساتھ ترقی و خوشحالی کا بھی ضامن ہے۔
بلوچستان میں دانش اسکولوں کا قیام، تعلیمی میدان میں انقلابی قدم!
![]()
وقتِ اشاعت : July 9 – 2025