میرا بھائی، علی نواز بلوچ، 45 برس کی عمر میں انتقال کر گیا۔ وہ ایک ایسے کینسر سے ہارا جس سے بچا جا سکتا تھا۔ ابتدائی طور پر وہ منہ کے کینسر سے صحت یاب ہو چکا تھا، لیکن بعد میں یہ کینسر پھیل گیا۔ علی نوازپاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے سینئر کارکن تھے، اور کراچی کے معروف علاقے لیاری میں پارٹی کو دوبارہ منظم کرنے میں پیش پیش رہے۔علی نوازکو اپنی کمیونٹی میں بے حد عزت حاصل تھی۔ اْن کے آخری دنوں میں اتنے زیادہ لوگ اْن کی عیادت کے لیے ہسپتال آئے کہ ہمیں کہنا پڑا کہ کچھ دیر کے لیے آنا بند کریں۔ ہسپتال کی راہداریاں لوگوں سے بھری رہتی تھیں۔
علی نوازکا کینسر ’ماوا‘ (Mawa) کے استعمال سے ہوا تھا—یہ ایک سستا، نشہ آور، اور مہلک تمباکو آمیز مرکب ہے، جس میں چھالیہ، تمباکو کے ذرات، اور چونا شامل ہوتے ہیں۔ پاکستان میں یہ ممنوع ہے، مگر پھر بھی یہ کھلے عام گلیوں، بازاروں اور اسکولوں کے قریب فروخت ہوتا ہے۔
اْس کی موت اچانک نہیں تھی—بلکہ آہستہ، اذیت ناک، اور بے رحم تھی۔ جب معلوم ہوا کہ اْس کے پاس صرف چند دن باقی ہیں، تو میں فوراً امریکہ سے پاکستان پہنچا۔ جب میں پہنچا، وہ بے ہوش تھا اور جواب دینے کے قابل نہ تھا۔ کئی ماہ پہلے اْس نے مجھ سے کہا تھا، ‘‘میں مہینوں سے درد کی وجہ سے سو نہیں پایا۔’’ کینسر دوبارہ آ چکا تھا اور تیزی سے پھیل رہا تھا۔ ابتدائی علاج، ریڈی ایشن اور کیموتھراپی نے ہمیں امید دلائی، مگر وہ بھی عارضی نکلی۔ وہ 13 جون 2025 کو دنیا سے رخصت ہوا۔ اپنے پیچھے ایک ایسا خاندان اور برادری چھوڑ گیا جو آج بھی اْس زہر سے انکار کر رہی ہے جو اْس کی موت کا سبب بنا۔
علی نواز کا علاج آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی میں ہوا—یہ ملک کا ایک مہنگا اور معروف ہسپتال ہے۔ مگر ہمارا تجربہ مایوس کن تھا۔ ڈاکٹروں نے ہمیں جھوٹی امید دلائی اور کبھی صحیح طریقے سے نہ بتایا کہ ہمیں آگے کیا توقع رکھنی چاہیے یا درد کے علاج کے لیے کیا کرنا ہوگا۔ ہر دو دن بعد ہمارا کوئی نہ کوئی عزیز اْسے ایمرجنسی لے کر جاتا اور گھنٹوں روتے بلکتے ہم انتظار کرتے۔زیادہ تر علاج ریذیڈنٹ ڈاکٹروں کے ذریعے کیا جا رہا تھا—وہ محنتی تو تھے، مگر اکثر ہماری تشویش کا جواب نہیں دے پاتے۔ وہ طبی اصطلاحات میں بات کرتے، جو ہماری فیملی کے بہت سے افراد کو سمجھ نہیں آتی تھیں۔ مجھے دو بار کہنا پڑا’’براہ کرم عام زبان میں سمجھائیں‘‘۔ تب جا کے انہوں نے وضاحت کی اور ہمیں سوال کرنے کا موقع دیا تاکہ میں اْس کی بیوی، والدہ اور رشتہ داروں کو ترجمہ کر کے سمجھا سکوں۔
میں سات دن وہیں رہا، اور شاید ہی کوئی سینئر ڈاکٹر فیملی سے بات کرتا دکھائی دیا۔ جب علی مکمل بے ہوش اور نازک حالت میں تھا، تب ہمیں کہا گیا کہ اْسے گھر لے جائیں یا ہاسپِس میں منتقل کریں۔ وہ BiPAP پر تھا اور بمشکل سانس لے رہا تھا۔ یہ بہت دل خراش منظر تھا۔ مگر ڈاکٹروں کا اصرار تھا کہ اْسے گھر لے جایا جائے تاکہ وہ اپنے پیاروں کے ساتھ آخری دن گزار سکے۔
مگر ایک بے ہوش مریض، جو سانس لینے سے بھی قاصر ہو، اْسے گھر کیسے لے جایا جا سکتا ہے؟ کیا صرف اس لیے کہ وہ اپنے پیاروں کے سامنے تڑپے؟ میں نے منت کی کہ کم از کم اْس کی حالت کو کچھ سنبھالا جائے تاکہ اْس کی بیوی، ماں اور بچوں کو اْسے آخری بار دیکھنے کا موقع مل سکے۔ وہ نہیں سمجھے کہ لیاری جیسے علاقوں میں بجلی قابلِ اعتبار نہیں، اور ہاسپِس ایک ایسی سہولت ہے جو شاید کراچی میں بھی کچھ لوگوں کے لیے میسر نہیں۔ لوگ اپنا سب کچھ لگا دیتے ہیں صرف اپنے پیاروں کو زندہ رکھنے کے لیے۔ ہمیں صرف صاف گوئی اور ثقافتی حساسیت درکار تھی۔ لیکن محسوس ہوا کہ جیسے وہ بس جان چھڑوانا چاہتے تھے۔
اس غم کو سب سے زیادہ تکلیف دہ بنانے والی بات یہ ہے کہ یہ سب روکا جا سکتا تھا۔ اگر ماوا، گٹکا، اور دیگر تمباکو مصنوعات کی روک تھام کے لیے مؤثر آگاہی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے موجود ہوتے تو شاید علی نوازآج ہمارے درمیان ہوتا۔ پاکستان میں منہ کا کینسر مردوں میں سب سے زیادہ عام ہوتا جا رہا ہے، اور سالانہ 11,000 سے زائد کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔ ان میں سے 67.6% کیسز ابتدائی مراحل میں پکڑے جاتے ہیں، مگر بروقت علاج اور آگاہی کی کمی کے باعث نتائج اب بھی غیر یقینی ہیں۔
’ماوا ‘کراچی میں ممنوع ہے۔ مگر یہ پابندیاں کیا معنی رکھتی ہیں جب قانون نافذ کرنے والے افسران انہیں رشوت کمانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں؟ دکاندار کھلے عام یہ زہر بیچتے ہیں، اور اسمگلر مہنگی گاڑیوں میں چھالیہ لے کر چیک پوسٹوں سے نکل جاتے ہیں۔ جب پکڑے جاتے ہیں، تو پولیس کو پیسے دے کر چھوٹ جاتے ہیں۔ لیاری کے ایک شخص نے بتایا کہ پابندی کے بعد لوگ بلیک مارکیٹ سے ماوا بنانے کے اجزاء خریدنے لگے۔ کینسر کی معیشت رکی نہیں—اس نے اپنا انداز بدل لیا۔
مگر قصور صرف کرپشن کا نہیں۔ یہ ہم سب کا مسئلہ ہے۔ ہم خود گلیوں میں کوڑا پھینکتے ہیں اور حکومت کو کوستے ہیں۔ ہم اْن جنازوں میں ’ماوا‘ چباتے ہیں جن کی موت ’ماوا‘ سے ہوئی۔ ہم آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی، جو اس وقت سندھ اور کراچی کی حاکم جماعت ہے، کو آگے آ کر اس مسئلے کا حل نکالنا چاہیے۔ اْسے عوامی آگاہی مہمات چلانی چائییںاور قانون نافذ کرنے والوں کو جوابدہ بنانا چاہیے۔ اس بار PPP نے اپنا ایک قابلِ فخر کارکن کھویا—ایسا کارکن جس نے پارٹی کی ساکھ لیاری میں دوبارہ بنانے میں دن رات ایک کر دیا تھا۔ PPP کے بہت سے لیڈران یہ بات جانتے ہیں۔ وزراء ، سینیٹرز، مئیر کراچی اور دیگر سیاسی وسماجی لوگ، سب علی نواز کے اہل خانہ سے تعزیت کے لیے آئے۔ مگر تعزیت کے بعد اب عمل کی ضرورت ہے۔
جب میں پاکستان میں تھا، کئی لوگ تعزیت کے لیے آئے، اور ان میں سے کچھ ’ماوا‘ چبا رہے تھے۔ میرا دل چیخنے کو چاہا۔ اگر علی کی موت اْنہیں نہ جھنجھوڑ سکی، تو اور کوئی کیا کرے گا؟
ہم پاکستان میں کینسر کے بارے میں بات نہیں کرتے۔ ہم اْس اذیت کا ذکر نہیں کرتے، اْس بے بسی کا، اْس تکلیف کا جو پورے خاندان کو کھا جاتی ہے۔ علی نواز ہمارے خاندان میں کینسر سے مرنے والا سب سے کم عمر فرد تھا۔ دوسرے بھی اس عذاب سے گزر چکے ہیں، مگر علی نواز کی بیماری ایک واضح، پہچانی جا سکنے والی اور قابلِ گریز وجہ رکھتی تھی۔ علی نواز اپنے خاندان کا واحد کفیل تھا۔ یہاں عورتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ صرف گھر سنبھالیں—یہ بھی ایک الگ اور سنجیدہ مسئلہ ہے۔ جب کفیل چلا جائے، تو پورے خاندان کا مستقبل خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
ہمیں صرف پابندیوں کی نہیں، بلکہ آگاہی، کمیونٹی کی شمولیت، اور حقیقی قانون سازی کی ضرورت ہے۔ ہمیں ’ماوا‘ اور گٹکے کو صرف صحت کا مسئلہ نہیں، بلکہ اخلاقی مسئلہ سمجھنا ہوگا۔ کیونکہ جب بھی کوئی ’ماوا‘ بیچتا یا چباتا ہے، وہ انسانی زندگی سے کھیل رہا ہوتا ہے۔
علی نواز کو اْس کی برادری بے حد چاہتی تھی—صرف اس کے سیاسی کام کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کی خوش مزاجی، حسِ مزاح، اور زندہ دلی کی وجہ سے۔ اْس کی موجودگی بلند اور متاثر کن تھی۔ میں نے ایک بار اْس سے پوچھا، ‘‘کبھی امریکہ آنے کا سوچا؟’’ تو وہ ہنس پڑا اور بولا، ‘‘میں لیاری کو امریکہ سے زیادہ چاہتا ہوں۔ میں یہاں کی زندگی کبھی نہیں چھوڑوں گا۔’’
علی نوازجانتا تھا کہ لوگ لیاری کو کم تر سمجھتے ہیں، مگر وہ کہتا،’’یہاں سب مجھے چاہتے ہیں، اور میں بھی اْنہیں چاہتا ہوں‘‘۔ وہ ہنسی مذاق میں کہتا تھا۔
(مضمون نگار، میڈیسن، وسکونسن، امریکہ میں مقیم ایک فری لانس صحافی ہیں۔ وہ روزنامہ آزادی کے سابق ممبر ہیں اور اس وقت یونیورسٹی آف وسکونسن–میڈیسن کے اسکول آف میڈیسن اینڈ پبلک ہیلتھ میں کنٹینیونگ ایجوکیشن اسپیشلسٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔)