|

وقتِ اشاعت :   July 17 – 2025

ملک میں عام لوگوں کا مسئلہ معاش کا ہے، مہنگائی ،بیروزگاری کی بڑھتی شرح کے باعث موجودہ حالات سے لوگ بہت زیادہ پریشان ہیں وہ ان سے چھٹکارا اور ریلیف چاہتے ہیں۔
حکومت اور اپوزیشن کی سیاسی کشیدگی کی کبھی کم نہیں ہوگی ملک کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر سیاسی جماعت اپنے دور میں ترقی اور عوام کو سہولیات زیادہ دینے کے دعوے کرتی ہے مگر بدقسمتی سے لوگوں کے حالات دن بہ دن بد تر ہوتے گئے ہیں۔
دہائیوں سے لوگ بنیادی سہولیات سمیت معاشی مسائل کی وجہ سے ذہنی کوفت میں مبتلا ہیں اگر ترقی کی رفتار تیز ہوتی اور سیاسی جماعتوں کے دعوئوں میں صداقت ہوتی تو آج ملک معاشی مسائل سے دوچار نہ ہوتا، ملکی معیشت بہت زیادہ بہتر ہوتی تو مہنگائی اور بیروزگاری کی شرح میں مسلسل اضافہ ریکارڈ نہیں ہوتا۔
حکومت کی جانب سے اب بھی یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ مہنگائی اور بیروزگاری کی شرح میں کمی آئی ہے مگر زمینی حقائق کچھ اور ہی ہیں، آج بھی ضروریہ اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں جبکہ نوجوانوں کی بڑی تعداد بیروزگاری کا شکار ہے ایسے حالات میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر مہنگائی کا بم گرانے کے مترادف ہے لیکن حکومت ہے کہ لوگوں کی حالات سے بے پرواہ دھڑا دھڑ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کررہا ہے۔
پندرہ دن کے وقفے کے بعد وزارت خزانہ کی جانب سے ایک بار پھرپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 36 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، پیٹرول کی نئی قیمت 272 روپے 15 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 11 روپے 37 پیسے اضافہ کیا گیا ہے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 284 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ یکم جولائی کو پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے 36 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا، یکم جولائی سے ہائی اسپیڈ ڈیزل 10 روپے 39 پیسے مہنگا کیا گیا تھا۔
ایک ماہ کے دوران دوسری بار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کی شرح مزید بڑھے گی، تنخواہ دار اور دیہاڑی دار طبقے کے چولہے ٹھنڈے پڑ جائینگے کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے اس کا اثر اشیائے ضروریات کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں آئے گا جو کہ غریب پر براہ راست مالی بوجھ کے مترادف ہے۔
حکومت قرضوں کی ادائیگی اور دیگر اخراجات کا بوجھ عوام پر ڈالنے کی پالیسی ترک کرے، انہیں ریلیف فراہم کرے۔ عوام حکومت سے اپنے مسائل کا حل چاہتی ہے نہ کہ ان میں مزیداضافہ۔