|

وقتِ اشاعت :   July 18 – 2025

پاکستان اپنے جغرافیہ ا ور محل وقوع کے حوالے سے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
پاکستان بنیادی ڈھانچے اور اقتصادی مواقع کی وجہ سے وسطی ایشیاء سمیت دیگر ہمسایہ ممالک کے مابین تجارت کا اہم ذریعہ بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
سی پیک کے تحت بننے والے انفراسٹرکچر کی وجہ سے بھی خطے میں پاکستان کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
پاکستان کا محل وقوع ایران یا چین سے گزرنے والے تجارتی راستوں کے مقابلے میں مختصر فاصلے والا کم خرچ تجارتی راستہ فراہم کرتا ہے۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری اور گوادر پورٹ کی ترقی نے وسطی ایشیا اور دیگر ہمسایہ ممالک کو پاکستان کے ساتھ رابطوں کے مواقع کو بڑھادیا ہے۔
گوادر بندرگاہ، جو بحیرہ عرب پر واقع ہے، بین الاقوامی منڈیوں بشمول وسطی ایشیاء کے ساتھ براہ راست سمندری رابطہ فراہم کر سکتی ہے۔
موجودہ معاشی حالات کے پیش نظر ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے پاکستان اپنے سمندری راستے، ٹرین منصوبے سمیت دیگر ٹرانسپورٹ کے ذرائع پر بہت زیادہ سرمایہ کاری کررہا ہے جس سے ملکی معیشت مضبوط ہوگی۔
وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ وسطی ایشیاء سے تجارتی سامان کی پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے دنیا بھر میں آمد و رفت ہو گی۔
وزیر اعظم کی زیر صدارت شپنگ سیکٹر اور نیشنل شپنگ کارپوریشن اصلاحات سے متعلق اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ شپنگ سیکٹر میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کیلئے پلان مرتب کیا جائے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ نیشنل شپنگ کارپوریشن کو کارپوریٹ خطوط پر استوار کرنے کیلئے اقدامات کیے جائیں۔
پاکستان، افغانستان اورازبکستان ریلوے لائن سے نئے دور کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیا سے تجارتی سامان کی پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے دنیا بھر میں آمدورفت ہوگی،ٹرانزٹ ٹریڈ کیلئے ریلوے اور شپنگ شعبے کی بہتری کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی شپنگ لائنز کیلئے سامان کی ترسیل سے ملک کیلئے قیمتی زر مبادلہ کا یہ نادر موقع ہے، انہوں نے ہدایت کی کہ زرمبادلہ کی بچت کیلئے بحری بیڑے میں جہازوں کی تعداد میں اضافے کیلئے اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے وزارت سمندری امور اور نیشنل شپنگ کارپوریشن کو شعبے کی ازسرنو اصلاحات اور بزنس ماڈل پیش کرنے کی ہدایت کی۔
حکومت کی جانب سے علاقائی تجارت پر خاص توجہ دینے سے بیرونی سرمایہ کاری کے ساتھ مقامی سطح پر بھی صنعتی ترقی آئے گی، علاقائی تجارت ترقی و خوشحالی کے نئے راستے کھولے گی ،روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہونگے جبکہ حکومت عوامی مفاد کے نئے منصوبوں کا آغاز بھی کرسکے گی اس کے لیے حکومتی معاشی پالیسیوں کا تسلسل انتہائی ضروری ہے کیونکہ ماضی میں حکومتوں کی تبدیلی کے باعث ملکی معیشت بہت زیادہ متاثر ہوا ہے۔
آج حالات کا تقاضہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں معاشی پالیسی پریکجا ہوں جو ملک کے وسیع تر مفاد میں ہے۔