بلوچستان کا ضلع چاغی قدرتی قیمتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے جہاں سونے، تانبے کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔
ریکوڈک چاغی میں واقع ہے ریکوڈک منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے جہاں بڑے پیمانے پر بیرونی سرمایہ کاری ہورہی ہے۔
ریکوڈک کا شمار دنیا کے تانبے اور سونے کے بڑے ذخائر میں ہوتا ہے اور یہ ضلع چاغی میں شروع کیا گیا ایک اہم ترقیاتی انقلابی پروجیکٹ اوربلوچستان کی معاشی و اقتصادی ترقی کی ضمانت ہے ۔
اس اہم پروجیکٹ کی تکمیل ملک خاص کر بلوچستان میں بڑی معاشی تبدیلی کا ضامن ہے اس منصوبے سے بلوچستان کی موجودہ اور آنے والی نسلیں مستفید ہوں گی۔
ریکوڈک کے ذخائر سے مالا مال چاغی رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ضلع اور افغانستان و ایران کی سرحدوں کے قریب واقع ہے۔
یہ ضلع خشک اور نیم خشک زمینوں پر مشتمل ہے جس میں وسیع صحرا، پہاڑی سلسلے اور کم نباتات ہیں۔
اس صحرا میں راسکوہ پہاڑیاں اور چاغی پہاڑیاں شامل ہیں۔
ضلع چاغی میںعوام کو بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی سمیت دیگر مسائل کا سامنا ہے مگر ریکوڈک منصوبے کے ذریعے ضلع چاغی میں ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کا ہوگا جس میں عوام کیلئے صحت، تعلیم، صاف پانی، بہترین انفراسٹرکچر، شاہراہوں کی تعمیر، روزگار سمیت دیگر سہولیات میسر آئینگی۔
ریکوڈک منصوبے کے ذریعے بلوچستان میں موجود دیگر مسائل و چیلنجز سے نمٹا جاسکے گا جس سے محرومیوں اور پسماندگی کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔
ریکوڈک مائننگ کمپنی کے کنٹری مینیجر ضرار جمالی نے کہا ہے کہ ریکوڈک منصوبہ دنیا کے سب سے بڑے تانبے اور سونے کے ذخائر میں سے ایک ہے اور پیداوار شروع ہونے کے بعد یہ منصوبہ بلوچستان اور پاکستان دونوں کے لیے ترقی کا نیا باب ثابت ہوگا۔
گزشتہ روز انجنیئرز کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے دوران حال ہی میں انٹرنیشنل گریجویٹ ڈیولپمنٹ پروگرام (IGDP) کے تحت ارجنٹینا کی ویلاڈیرو کان میں 18 ماہ کی عملی تربیت مکمل کرنے والے نوجوان انجینئرز نے شرکت کی جوبلوچستان کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں۔
تربیت مکمل ہونے پر انہیں شیلڈز سے نوازا گیا۔
بیریک مائننگ کارپوریشن کی قیادت میں RDMC نے اردگرد کی مقامی آبادی کو صاف پانی، صحت اور تعلیم کی سہولیات فراہم کی ہیں اور کمپنی کا ہدف ہے کہ 2028 کے اختتام تک منصوبے کی باقاعدہ پیداوار شروع ہو جائے۔
ریکوڈک مائننگ کمپنی کے ہیڈ آف ایچ آر ہانو اسٹیڈن نے کہا کہ IGDP پروگرام بلوچستان کے نوجوان انجینئرز کو عالمی معیار کی تربیت فراہم کرنے اور انہیں مائننگ سیکٹر میں شامل کرنے کا مؤثر اقدام ہے۔ 2024 میں مزید 18 نوجوانوں کو زیمبیا اور ارجنٹینا بھیجا گیا، جن کا تعلق بلوچستان کے 11 اضلاع سے ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ RDMC کے 75% مستقل ملازمین کا تعلق بلوچستان سے ہے جن میں سے 65% کا تعلق ضلع چاغی سے ہے اور 14% ملازمین خواتین پر مشتمل ہیں۔
کمپنی کی کمیونی کیشن مینیجر سامعہ شاہ نے منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ریکوڈک منصوبہ بیریک مائننگ کارپوریشن اور حکومتِ پاکستان کے درمیان مشترکہ منصوبہ ہے۔
بیریک کی ملکیت کا تناسب 50% ہے۔
جبکہ باقی 25% وفاقی اداروں اور 25% حکومتِ بلوچستان کے پاس ہے، جس میں 10% فری کیریڈ انٹرسٹ شامل ہے۔
منصوبے کی کم از کم مدت 37 سال ہوگی۔ تعمیراتی مرحلے میں 7,500 ملازمتیں اور پیداوار کے بعد 3,500 طویل مدتی ملازمتیں فراہم کی جائیں گی اس کے علاوہ 25,000 سے زائد بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے 90% ویلیو ایڈیشن بلوچستان کے اندر ہی کی جائے گی جون 2025 تک حکومت بلوچستان کو 17.5 ملین ڈالر رائلٹی کی ادائیگی ہو چکی ہے جبکہ 7.2 ملین ڈالر سماجی ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے جا چکے ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں 7 اسکول قائم کیے گئے جہاں 403 سے زائد طلباء زیر تعلیم ہیں جبکہ 577 نوجوانوں کو تکنیکی تربیت دی گئی ہے۔بہرحال ریکوڈک منصوبہ نہ صرف معدنی ترقی کا مرکز بن رہا ہے بلکہ بلوچستان کے نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور مقامی معیشت کو فروغ دینے کی سمت ایک مضبوط قدم ثابت ہو رہا ہے۔
بلوچستان میں معاشی تبدیلی سے صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا، دہائیوں سے جن مسائل کا سامنا بلوچستان کے عوام کو درپیش ہیں وہ کافی حد تک حل ہونگے۔
ریکوڈک منصوبہ بلوچستان اور ملکی ترقی میں مرکزی اہمیت رکھتا ہے موجود وفاقی و صوبائی حکومت کی جانب سے اہم منصوبوں کا فائدہ مقامی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ پہنچانے کی کاوشیں قابل تحسین ہیں ۔
امید ہے کہ بلوچستان کے دیگر میگا پروجیکٹس میں بلوچستان کے عوام کو ترجیح دی جائے گی تاکہ وہ اپنے صوبے کے وسائل سے مستفید ہوسکیں۔