کوئٹہ : سول ہسپتال کوئٹہ میں وائی ڈی اے آفس میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کی سپریم کونسل کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ صحت بلوچستان میں جاری بدترین کرپشن، ناقص منصوبہ بندی، ٹینڈر مافیا کے غیر قانونی اقدامات، اور ڈاکٹرز کمیونٹی کو بدنام کرنے کے لیے چلائی جانے والی مہم پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس میں اس بات کی شدید مذمت کی گئی کہ محکمہ صحت کے چند مخصوص افراد، جنہیں اندرونِ محکمہ بخشو 47 اور بی پیپرا سے آئے ہوئے ٹینڈر ماسٹر کے ناموں سے جانا جاتا ہے، پورے صحت نظام کو یرغمال بنائے بیٹھے ہیں۔ ان کی بدعنوانی، اقربا پروری اور کمیشن خوری نے نہ صرف عام عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم کر دیا ہے بلکہ ڈاکٹر برادری کی ساکھ کو بھی مجروح کیا ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ 10 روپے کی سرنج 35 روپے اور 50 روپے کی کینولا 350 روپے میں خریدی جا رہی ہے۔
ادویات کے نام پر اربوں روپے کی خردبرد کی گئی ہے، جبکہ سرکاری اسپتالوں میں بنیادی ادویات کی فراہمی 2 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔ عملی طور پر مریض محروم اور محکمہ صرف اخباری بیانات میں متحرک نظر آ رہا ہے۔اجلاس میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ ٹینڈر ماسٹر کی سرکاری حاضری محض 9 فیصد ہے، جبکہ ان کی غیرسرکاری سرگرمیاں، جیسا کہ سرینا ہوٹل اور چمن ہاسنگ اسکیم میں ملاقاتیں، 91 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہیں۔ مشینری کی خریداری میں بھی بدترین دھاندلی ہوئی ناقص، پرانی اور ناکارہ مشینیں بایومیڈیکل انجینئرز کی منظوری کے بعد خریدی گئیں،
جس کا واحد مقصد کمیشن حاصل کرنا اور ذاتی اکانٹس بھرنا ہے۔سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ محکمہ صحت میں کرپشن کو چھپانے کے لیے ایک منظم پروپیگنڈا مہم شروع کی گئی ہے، جس کا ہدف صرف اور صرف ڈاکٹروں کو بدنام کرنا ہے۔ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ڈاکٹرز ڈیوٹی پر نہیں آتے۔ سپریم کونسل کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ اگر واقعی کوئی ڈاکٹر غیر حاضر ہے تو اس کا نام عوام کے سامنے پیش کیا جائے، تاکہ اس کے پشت پناہوں کو بھی بے نقاب کیا جا سکے،
جو اکثر انہی کرپٹ افسران کے رشتہ دار ہوتے ہیں۔اجلاس میں ان “کالی بھیڑوں” کا بھی ذکر کیا گیا جو خود کو ڈاکٹر کہلاتے ہیں، مگر عملا ٹینڈر مافیا کے ترجمان بنے ہوئے ہیں۔
یہ افراد بخشو 47 اور ٹینڈر ماسٹر کے ساتھ مل کر نہ صرف محکمہ صحت کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ پوری ڈاکٹر برادری کے مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ سپریم کونسل ان افراد کو دو ٹوک الفاظ میں وارننگ دیتی ہے کہ وہ فی الفور اپنی صفیں درست کریں۔واضح کیا گیا کہ محکمہ صحت میں گریڈ 1 سے 16 تک کی آسامیوں پر بولیاں لگ رہی ہیں۔ “پیسہ دو، نوکری لو” کا کھلا بازار لگا ہوا ہے، جہاں میرٹ کا کوئی تصور باقی نہیں رہا۔اجلاس میں یہ بھی افسوس کے ساتھ بتایا گیا کہ ٹینڈر ماسٹر نے وزیراعلی بلوچستان کی موجودگی میں پروموشن لسٹ جاری کرنے کے دعوے تو کیے،
لیکن حقیقت یہ ہے کہ موصوف کو تین ماہ سے زائد ہو چکے ہیں، اور وہ آج تک پروموشن لسٹ پر کام کے لیے وقت نہیں نکال سکے۔ اس تاخیر نے سینکڑوں سینئر ڈاکٹروں کے کیریئر کو روک کر رکھ دیا ہے اور یہ واضح اشارہ ہے کہ نیت کام کرنے کی نہیں بلکہ فائدہ اٹھانے کی ہے۔مزید برآں، بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کے MS اور ڈائریکٹر MSD کو محض اس لیے برطرف کیا گیا کیونکہ انہوں نے ٹینڈر ماسٹر اور بخشو 47 کے غیر قانونی احکامات ماننے سے انکار کیا۔ سپریم کونسل ان کی برطرفی کی شدید مذمت کرتی ہے اور ان کی بحالی اور تحفظ کا مطالبہ کرتی ہے۔اسی طرح، پرنسپل بولان میڈیکل کالج کی جانب سے ہاس آفیسرز کی تضحیک اور ان کے ہاسٹل کے حق سے محرومی ناقابل قبول ہے۔
ہاسٹل ان کا آئینی اور اخلاقی حق ہے، جسے چھیننے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔ایک بار پھر بلوچستان کے میڈیکل کالجوں میں تدریسی فرائض انجام دینے والے ڈاکٹروں کی تنخواہیں بند کر دی گئی ہیں۔
یہ نہ صرف ڈاکٹروں کے ساتھ ظلم ہے بلکہ طلبا اور تعلیمی نظام کے لیے بھی ایک دھچکا ہے۔ تدریسی عملے کو تنخواہ سے محروم کر کے ان کی کارکردگی متاثر کی جا رہی ہے، جو کہ مستقبل کے ڈاکٹروں کی تربیت کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تنخواہیں فوری طور پر بحال کی جائیں اور بلوچستان کے میڈیکل کالجوں کو تباہی سے بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں۔
اجلاس میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ 22 جنوری 2025 کو حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ہمارے مطالبات تسلیم کیے گئے تھے، مگر آج تک ان پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ ان مذاکرات کے ثالثین، جو اس وقت یقین دہانیاں کروا رہے تھے، آج مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
کیا ان کی یہ خاموشی اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ بھی اس کرپٹ نظام کا حصہ بن چکے ہیں؟سپریم کونسل، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان حکومتِ بلوچستان، محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں کو متنبہ کرتی ہے کہ اگر ان کرپٹ عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف فوری اور شفاف کارروائی نہ کی گئی،
تو نہ صرف شدید احتجاج کیا جائے گا بلکہ قانونی چارہ جوئی، ادارہ جاتی بائیکاٹ اور عوامی رابطہ مہم بھی شروع کی جائے گی۔تمام تر ذمہ داری ان عناصر پر عائد ہوگی جنہوں نے صحت جیسے مقدس شعبے کو ذاتی مفادات کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ڈاکٹر برادری نہ خاموش ہے اور نہ کمزور اب وقت آ گیا ہے کہ ان چہروں کو بے نقاب کیا جائے جنہوں نے سفید کوٹ کی حرمت کو نیلام کیا۔