|

وقتِ اشاعت :   July 20 – 2025

کوئٹہ :  پارلیمانی سیکرٹری برائے ٹرانسپورٹ پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنماء میر لیاقت لہڑی نے کہا ہے کہ بارڈر کی بندش کی وجہ سے بلوچستان میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے

جس کی وجہ سے صوبے کے باسی نان شبینہ کے محتاج ہوگئے ہیں وفاقی حکومت اور ارباب اختیار اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے بے روزگار ہونے والے لاکھوں کو افراد کو متبادل روزگار فراہم کرکے بارڈر پر پابندی عائد کرے۔ آئے روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے ٹرانسپورٹروں، تاجروں سمیت ہر طبقے کو مہنگائی کے بوجھ تلے دبا دیا ہے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میر لیاقت لہڑی نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے

یہاں کے 80 فیصد لوگوں کا ذریعہ معاشی، تجارت، مالداری، زراعت اور بارڈر ٹریڈ وابستہ ہے کیونکہ بلوچستان کی سرحد دو ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان سے لگتی ہے

ان دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں اور بلوچستان میں بسنے والے لاکھوں لوگوں کا روزگار ان ہمسایہ ممالک کے ساتھ بارڈر ٹریڈ اور وہاں سے آنے والے کھانے پینے کے سامان اشیاء خوردونوش اور ایران سے آنے والے تیل سے جڑا ہوا ہے کیونکہ بلوچستان میں کوئی انڈسٹری نہیں لوگوں کا روزگار انہی بارڈر سے وابستہ ہے حکومت نے یک قلم جنبش بارڈر بند کرکے دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں اور صوبے کے دیگر علاقوں کے لاکھوں باسیوں کو بے روزگار کردیا کیونکہ یہ لوگ روزانہ کی بنیاد پر بارڈر سے کھانے پینے کا سامان اور تیل لاکر اپنے گھر کا چولہا جلاتے اور اپنے بال بچوں اور اہلخانہ کا پیٹ پالتے ہیں

بارڈر کی بندش سے لاکھوں لوگ بے روزگار کیونکہ ان کے پاس کوئی متبادل ذریعہ معاش نہیں حکومت پہلے انہیں متبادل ذریعہ معاش کاروباری ذرائع فراہم کریں اس کے بعد بارڈر پر سختی کریں بارڈر کی بندش سے بلوچستان کے لوگ نان شبینہ کا محتاج ہونے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی اور بد امنی کا شکار ہوچکے ہیں جس کا وفاقی حکومت اور ارباب کو نوٹس لیکر ان لاکھوں لوگوں کا پیٹ پالنے اور انہیں روزگار مہیا کرنے کا سوچنا ہوگا

وزیرا علیٰ بلوچستان اور موجودہ حکومت اس حوالے سے وفاقی حکومت اور ارباب اختیار سے رابطے میں ہیں انہیں اس صورتحال سے نکال کر روزگار کی فراہمی کیلئے قائل کررہی ہے ہماری کوشش ہے کہ پیپلزپارٹی جوکہ لوگوں کو روزگا ر دینے والی جماعت ہے ہم اپنے لوگوں کو بے روزگار نہیںہونے دیں گے اس کے لئے ہرفورم پر آواز اٹھائیں گے۔