|

وقتِ اشاعت :   July 22 – 2025

گزشتہ روز سے کوئٹہ کے قریب سنجدی ڈیگاری میں ایک خاتون اور مرد کو مسلح افراد کی جانب سے فائرنگ کرکے قتل کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس کے بعد اس واقعے پر عوامی ردعمل انتہائی شدید صورت میںسامنے آیاجہاں اس سفاکانہ واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری اور سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
ابتدائی طور پر اس ویڈیو میں قتل ہونے والے مردا ور خاتون کونوبیاہتا جوڑا کہا جارہا تھا مگر حتمی طور پر اس کی کوئی معلومات لوگوں کے پاس نہیں تھیں۔
ویڈیو میں تمام لوگ براہوئی زبان میں بات کر رہے ہیں متعدد مسلح افراد جائے وقوعہ پر دکھائی دے رہے ہیں۔
خاتون فائرنگ سے قبل براہوئی زبان میں کہتی ہیں کہ ‘صرف گولی کی اجازت ہے’ اس کے علاوہ کچھ نہیں۔
جس کے بعد وہاں پر موجود مرد یہ کہتے ہیں کہ ہاں صرف گولی مارنے کی اجازت ہے۔
بہرحال انتہائی بے دردی کے ساتھ مرد اور خاتون کو گولیاں مار کر قتل کردیا جاتا ہے ۔
اس بربریت کے خلاف پورا بلوچستان آواز اٹھارہا ہے جو اس بات کا واضح دلیل ہے کہ اس فرسودہ نظام اور فیصلے کے خلاف سب یک زبان ہیں۔
اس واقعے پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے تفصیلات بتادی ہیں کہ سنجدی ڈیگاری میں قتل ہونے والی خاتون اور مرد کے درمیان کوئی ازدواجی تعلق نہیں تھا۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا عوام کو حقائق کے بارے میں پتہ ہونا چاہیے، سوشل میڈیا پر کہا جاتا رہا کہ نوبیاہتا جوڑا تھا لیکن ایسا نہیں تھا، مقتولین کے درمیان کوئی ازدواجی رشتہ نہیں تھا، خاتون پانچ بچوں کی ماں تھی، قتل ہونے والے مرد کے بھی 4، 5 بچے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے سے پہلے ہی معاملے کا نوٹس لیا اور آئی جی کو ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا، کیس میں اب تک 11 افراد ہو چکے ہیں، مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار ے جا رہے ہیں، جو بھی کیس میں ملوث ہوگا اس کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے روز سے کہہ رہا ہوں کہ ریاست ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ رہی ہے، اس کیس میں بھی ریاست مظلوموں کے ساتھ ہے، ڈی ایس پی کو معطل کردیا ہے کیونکہ یہ ان کی ذمہ داری تھی کہ معاملے سے حکومت کو آگاہ کرتا، میں اس کیس کو ٹیسٹ کیس کے طور پرلے رہاہوں۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا اس طرح کے بہت سے جرگے ہوتے ہیں، انہیں روکا بھی گیا ہے، ہم جرگوں کو پروموٹ نہیں کریں گے، ہمیں آئین کے مطابق چلناہے۔
دوسری جانب چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے ڈیگاری میں مرد اور خاتون کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے کا نوٹس لے لیا۔
چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اورآئی جی پولیس کو 22 جولائی کو طلب کر لیا ہے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ کوئٹہ کے حکم بعد ڈیگاری میں قتل ہونے والے مرد اور خاتون کی قبرکشائی کی گئی، دونوں افراد کے باقیات کے نمونے بھی لے لیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق سوشل میڈیا کی وائرل ویڈیو کو دیکھنے کے بعد پولیس کی ٹیم کو واقعے کی تصدیق کے لیے متعلقہ علاقے میں بھجوایا ہے اب تک کی پولیس اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ عید الضحیٰ سے تین روز قبل سنجدی ڈیگاری علاقے میں پیش آیا ہے۔
ایف آئی آر رپورٹ کے مطابق مقتولین کو پندرہ افراد تین گاڑیوں میں لے کر وہاں پہنچے۔ سردار نے ’فیصلے میں کہا کہ مقتولین کاروکاری کے مرتکب ہوئے ہیں۔
سردار نے انھیں قتل کرنے کا فیصلہ سنایا اور 15 افراد جن میں سے دو نامعلوم ہیں نے ملکر آتشیں اسلحے سے سنجیدی میدانی میں مقتولین کو کاروکاری کے الزام میں قتل کر دیا۔
پولیس ایف آئی آر کے مطابق ان افراد نے مقتولین کی ویڈیو بھی ساتھ ساتھ بنائی اور واقعے کے 35 دن بعد اسے سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا۔
پولیس نے سردار کے فیصلے پر عمل کرنے والے 15 افراد کے خلاف مقتولین کو قتل کرنے اور اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر کے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کرنے کے جرم میں دفعہ 302 اور انسداد دہشت گردی کے ایکٹ 7 اے ٹی اے سمیت دیگر دفعات کو شامل کیا ہے۔
اس تمام واقعے کے بعد اب یہ امید اور توقع کی جارہی ہے کہ قاتلوں کو کڑی سزا دی جائے گی تاکہ اس طرح کا وحشت اور دردناک واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے۔