|

وقتِ اشاعت :   July 23 – 2025

 

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے 16ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کو سمجھنے کے لیے ماضی کی حقیقت جاننا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دیگر حصوں میں بلوچستان سے متعلق جو تصور پایا جاتا ہے، وہ حقیقت کے منافی ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے تاریخی تناظر میں بات کرتے ہوئے کہا کہ نواب خیر بخش مری علیحدگی کے حامی جبکہ میر غوث بخش بزنجو جمہوری جدوجہد کے قائل تھے۔ “ہم مایوس نوجوانوں کو سینے سے لگائیں گے، ان کے شکوے دور کریں گے، لیکن ریاست توڑنے والوں سے آئین سے باہر کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی۔” وزیر اعلیٰ نے کہا کہ چاہے وہ مذہب ہو یا قوم پرستی، دہشت گردی کسی بھی شکل میں ناقابلِ قبول ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ شورش کی اصل وجہ صرف بیروزگاری یا غیر متوازن ترقی نہیں بلکہ ریاست سے لڑنے والوں کا مقصد بلوچ شناخت کی بنیاد پر علیحدہ ریاست کا قیام ہے۔ “یہ اینٹیلیجنس ڈرون وار صرف ریاست نہیں، بلکہ ہر پاکستانی کے خلاف ہے، اور یہ ہماری مشترکہ جنگ ہے۔”

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قلات میں ماضی میں محدود کارروائی کو پورے بلوچستان کا آپریشن قرار دینا تاریخی طور پر غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ درست تجزیہ کے لیے تاریخی شعور ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کے لیے ایک جامع صوبائی ایکشن پلان تشکیل دیا گیا ہے اور ریسپانس میکانزم کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا مقصد صرف خوف پھیلانا ہے، اور وہ بلوچستان کی ایک انچ زمین پر بھی مستقل قبضہ نہیں کر سکتے۔

انہوں نے سیکیورٹی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فورسز گرے زونز میں آپریٹ کر رہی ہیں جہاں دشمن اور دوست کی پہچان مشکل ہے۔ مسنگ پرسنز کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جامع قانون سازی کی جا چکی ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ گورننس اور سروس ڈلیوری کے نظام میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صحت و تعلیم کے شعبے میں 99.99 فیصد بھرتیاں میرٹ پر کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے طلبہ کو قومی اور بین الاقوامی اسکالرشپس فراہم کی جا رہی ہیں۔

کرپشن کے خلاف اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سی ایم آئی ٹی اور اینٹی کرپشن اداروں کو فعال بنایا گیا ہے۔ مرد و خواتین کے حالیہ بہیمانہ قتل کے واقعے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شفاف تحقیقات جاری ہیں۔ “ورثاء میں سے کسی نے ایف آئی آر کے لیے رجوع نہیں کیا، اس لیے ریاست خود مقدمے کی مدعی ہے،” وزیر اعلیٰ نے کہا۔ “ہم مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہیں اور کیس کی بھرپور قانونی پیروی کریں گے۔”