|

وقتِ اشاعت :   July 23 – 2025

اسلام آباد : ملی یکجہتی کونسل پاکستان نے کہاہے کہ وزیر اعظم دہشت گردی کے خاتمے ، امن عامہ کے قیام کے لیے قومی سطح پر آل پارٹیز کانفرنس بلائیں اور متفقہ لائحہ عمل بنایا جائے،

بلوچستان کے مسائل حل کیے جائیں،لاپتہ افراد کی بازیابی کا آئین اور قانون کے مطابق حل نکالا جائے بلوچستان اور خیبر پختون خواہ تمام صوبوں کے معدنی وسائل زرعی زمینوں پر صوبہ کے حق ملکیت کی بنیاد مسمار نہ کی جائے، وفاقی اور صوبوں کے تنازعات کے حل کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کا آئینی ادارہ فعال کیا جائے،حکومت اسلامی نظریاتی کونسل کے فیصلہ کے مطابق غیر شرعی قانون سازی واپس لے،سیاسی بحرانوں اور مسائل کا حل سیاسی بنیادوں پر تلاش کر لیا جائے،

وگرنہ آئین عدلیہ جمہوریت پارلیمانی نظام اسلامی تہذیب و اقدار کی صف لپیٹ دی جائے گی اور قومی قیادت تماشائی بنے رہی گیاور منہ تکتی رہ جائے گی،بھارت کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان نے دلیری مہارت سے معرکہ سر کیا ،عالمی سطح پر پاکستان کا امیج بہت بہتر ہو گیا،پاک بھارت جنگ میں پوری قوم تمام اختلافات سے بالاتر ہو کر معرکہ حق میں ہندوستان کی جارحیت کے مقابلے میں بنیان المرصوص بن گئی ،پاک افغان مضبوط تعلقات دونوں ممالک کے عوام کے لیے انتہائی نا گزیر ہیں،فلسطین فلسطینیوں کا ہے ،

دو ریاستی حل یا ابراہیمی معاہدہ مسلط کرنا ظلم اور نا انصافی ہے،پاکستان کے عوام ابراہیمی معائیدہ اور اسرائیل کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے،بھارتی فاشزم اور کشمیریوں پر 78سال سے مسلط ظلم و جبر قتل عام قیادت کارکنان کی گرفتاریاں عالمی اداروں کے لیے شرمناک ہیں،حکومت فلسطین اور کشمیر پر مضبوط حکمت عملی اپنائے۔ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مجلس قائدین اور قومی مشاورت اجلاس صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس کی میزبانی سینئر رہنما علامہ سید ساجد علی نقوی سربراہ اسلامی تحریک اور سینئر نائب صدر ملی یکجہتی کونسل نے کی۔مولانا فضل الرحمان امیر جمعیت علمائے اسلام پاکستان نے خصوصی طورپر شرکت کی ۔ مرکزی قائدین میں لیاقت بلوچ ،حافظ نعیم الرحمان ،مولانا محمد امجد خان ،حافظ عبدالغفار روپڑی ،مفتی گلزار احمد نعیمی ،خرم نواز گنڈا پور ،قاری محمد یعقوب شیخ ،مولانا اللہ وسایا ،علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری ،مولانا زاہد محمود قاسمی ،علامہ شبیر حسن میثمی ،علامہ عارف حسین واحدی،ڈاکٹر حضور مہدی ،پیر سید صفدر شاہ گیلانی ،محمدعبداللہ حمید گل ،مولانا عبدالمالک ،ڈاکٹر سید علی عباس نقوی ،ڈاکٹر ضمیر اختر خان ،سید اقبال حیدر رضوی ،ڈاکٹر صابر ابو مریم ،قاضی ظفر الحق ،رضیت باللہ اور زاہد علی اخوانزادہ شامل تھے ۔

اجلاس میں قومی مشاورتی اجلاس میں اتفاق رائے سے مشترکہ اعلامیہ کی منظوری دی ۔مشترکہ اعلامیہ میں کہاگیاکہ ملکی صورت حال دن بدن تشویش ناک ہو رہی ہے، پاکستان کا اسلامی نظریاتی کردار مخدوش اور سرکاری سطح پر تعصبات ، تفرقوں اور قوم کو تقسیم کرنے کے عمل کی وجہ سے قومی وحدت یکجہتی بری طرح متاثر ہے۔اعلامیہ میں کہاگیاکہ پاک بھارت جنگ میں پوری قوم تمام اختلافات سے بالاتر ہو کر معرکہ حق میں ہندوستان کی جارحیت کے مقابلے میں بنیان المرصوص بن گئی ،افواج پاکستان نے دلیری مہارت سے معرکہ سر کیا اسلامی ممالک خصوصا دوست ملک چین کی جانب سے مکمل اور بھر پور تائید نے ہندوستان کو پسپا کر دیا اور عالمی سطح پر پاکستان کا امیج بہت بہتر ہو گیا، فتح و کامیابی کے بعد اندرونی مسائل حل کرنے کی جس مثبت جذبوں کی ضرورت تھی بدقسمتی سے حکومت اور سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا رویہ صریحاً آئین جمہوریت اور قومی وحدت کے خلاف ہے۔ اعلامیہ میں کہاگیاکہ اسلامی جمہوری ایران کی امریکہ اور اسرائیل جارحیت کے خلاف استقامت اور عظیم کامیابی پر ایرانی قیادت اور بہادر عوام کو مبارکباد دیتے ہیں امریکہ اور اسرئیل ایران کے خلاف مکمل طور پر ناکام اور پسپا ہو گئے۔

ایٹمی توانائی کا حصول ایران کا حق ہے۔اعلامیہ میں کہاگیاکہ پاک افغان تعلقات کی بحالی اور سفارتی تعلقات کی بہتری کا خیر مقدم کیا اس پیش رفت میں چین کا کردار علاقائی استحکام کے لیے قابل قدر ہے۔ اعلامیہ کے مطابق پاک افغان مضبوط تعلقات دونوں ممالک کے عوام کے لیے انتہائی نا گزیر ہیں،پاکستان اور افغانستان کہ عوام ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں، دونوں ممالک آپسی شکایات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔