|

وقتِ اشاعت :   July 25 – 2025

بلوچستان کے 80 فیصد سے زائد علاقوں میں لیویز فورس قیام امن کیلئے فرائض سر انجام دے رہی ہے جنہیں بی ایریا کہا جاتا ہے جس میں اندرون بلوچستان کے بیشتر اضلاع شامل ہیں ۔
لیویز قدیم فورس ہے جس میں تقریباً تمام اہلکار مقامی ہیں جبکہ اے ایریا پولیس کے کنٹرول میں ہے جو وہاں امن و امان کی صورتحال کی ذمہ دار ہے۔
لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے اور بی ایریا کو اے ایریا میں شامل کرنے کے حوالے سے موجودہ حکومت اور ماضی کی حکومتوں نے کوششیں کیں جس کا بنیادی مقصد امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے۔
لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے رواں سال جنوری میں اسمبلی اجلاس میں قرار داد بھی پیش کی گئی تھی جس میں تمام اپوزیشن جماعتوں کا موقف تھا کہ ماضی میں بھی لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے اور بی ایریا کو اے ایریا میں شامل کرنے کا تجربہ ناکام ہوا تھا لہذا لیویز فورس کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے اسے وسائل اور بہترین ٹریننگ دی جائے، لیویز کو ختم کرنا مناسب نہیں۔
حکومتی سطح پر لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کا بنیادی مقصد بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری لانا ہے جس کے لیے حکومت کی جانب سے لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
2010 میں منظور کیے گئے ایک قانون کے تحت لیویز فورس کام کر رہی ہے، جس کی منسوخی اور انضمام کے لیے صوبائی کابینہ سے منظوری اور اسمبلی سے قانون سازی کرنا ہوگی۔
حکومت کو اپوزیشن اور اپنے ارکان کی جانب سے بھی مخالفت کا سامنا ہوگا کیونکہ بعض ارکان اس انضمام کے حق میں نہیں ہیں۔
دوسری جانب بلوچستان ہائی کورٹ نے لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے سے متعلق اپنے واضح احکامات کی خلاف ورزی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکریٹری بلوچستان سمیت متعدد اعلیٰ افسران کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری کر دئیے ہیں۔
عدالت عالیہ کے ڈویژن بینچ نمبر 3، جسٹس اقبال کاسی اور جسٹس ایوب ترین پر مشتمل بنچ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے 26 جون اور 17 جولائی 2025 کو جاری کیے گئے عدالتی احکامات کی یاددہانی کرائی جن میں لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کے عمل کو واضح طور پر روک دیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ان احکامات کے باوجود متعلقہ حکام نے مراسلہ جات جاری کیے، اجلاس منعقد کیے اور دیگر عملی اقدامات کیے جو صریحاً عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت نے چیف سیکریٹری، سیکریٹری داخلہ و قبائلی امور، ڈی جی لیویز، کمشنر ژوب ڈویژن، ڈپٹی کمشنرز قلعہ سیف اللہ، ژوب اور شیرانی سمیت ایس پیز اور دیگر متعلقہ افسران کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر وضاحت طلب کر لی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل باسط شاہ ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کی جانب سے حکم امتناع جاری ہونے کے باوجود صوبائی حکومت نے لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کا عمل جاری رکھا، جس میں میٹنگز، احکامات اور فیلڈ میں عملی اقدامات بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل بلوچستان ہائی کورٹ کے تربت بینچ نے 24 جون 2025 کو حکومت بلوچستان کی جانب سے لیویز کو پولیس میں ضم کرنے سے متعلق جاری کیے گئے نوٹیفکیشنز کو معطل کر دیا تھا اور لیویز کی موجودہ حیثیت کو برقرار رکھنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے 20 مئی اور 17 جون کو جاری نوٹیفکیشنز پر عملدرآمد روک دیا تھا اور کہا تھا کہ کیس کے حتمی فیصلے تک کوئی پیش قدمی نہ کی جائے۔
لیویز فورس کی قانونی نمائندگی سینئر وکیل طاہر علی بلوچ نے کی جنہوں نے عدالت کو بتایا کہ لیویز کو پولیس میں ضم کرنا نہ صرف آئین اور قانون کے منافی ہے بلکہ اس سے عوامی مفاد بھی بری طرح متاثر ہو گا۔
واضح رہے کہ حکومت بلوچستان نے 17 جون کو ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے 13 اضلاع میں لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کی تھی، جو ’بی ایریا‘ کو ’اے ایریا‘ میں تبدیل کرنے کی سفارشات مرتب کرے گی۔
کمیٹی کو 10 جولائی تک رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ جنوری 2025 میں کوئٹہ، گوادر اور لسبیلہ میں لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کا عمل مکمل کیا گیا۔ بہرحال لیویز فورس کی پولیس میں دوبارہ انضمام کی کوششیں جو رخ اختیار کرینگی وہ آئندہ چنددنوں میں واضح ہو جائے گا تاہم بلوچستان کے وسیع تر مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا ہوگاجو مثبت نتائج کا باعث بنے نہ کہ معاملات مزید خرابی کی طرف جائیں۔