|

وقتِ اشاعت :   July 26 – 2025

بلوچستان ملک کا نصف حصہ ہے اورمنتشر آبادی پر پھیلا ہوا خطہ ہے یہاں بہترین انفراسٹرکچر کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔
بلوچستان میں شاہراہوں کی جال بچھائی جائے ،ترقی و خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔
بلوچستان کے مختلف حصوں میں روڈ انفراسٹرکچر کو ترجیحی بنیادوں پر بنانے کی ضرورت ہے جہاں بیرونی سرمایہ کاری میں مزید اضافہ ہوگا جبکہ مقامی لوگوں کو سفری سہولیات سمیت روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔ بلوچستان میں روڈ انفراسٹرکچر پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔
موجودہ صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان میں شاہراہوں کی تعمیر نو کا کام جاری ہے، شاہراہ کی تعمیر سے نہ صرف بلوچستان کے عوام کو فائدہ ہو گا بلکہ ملک کے دیگر علاقوں کو بھی ایک بہتر متبادل راہداری میسر آئے گی۔
بہتر شاہراہیں ترقی اور بہتر مستقبل کے لئے کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
بلوچستان جیسے صوبے میں خاص کر اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے، دور دراز خاص کر اندرون بلوچستان کے شہری و دیہی علاقوں کے لوگوں کیلئے بہت ساری آسانیاں پیدا ہونگی۔
گزشتہ روز وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت جاری مواصلاتی منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان ، سیکرٹری مواصلات لعل جان جعفر، سیکرٹری خزانہ عمران زرکون اور دیگر حکام نے شرکت کی۔
سیکرٹری مواصلات نے رکھنی بیکڑ شاہراہ سمیت جاری منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے منصوبوں کے معیار، شفافیت اور بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبے عوامی فلاح و بہبود سے مشروط ہیں، کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی،انہوں نے کہا کہ پہاڑی علاقوں میں ٹنلز کی تعمیر سے طویل راستوں کو سہل اور مختصر بنایا جا سکتا ہے، رکھنی بیکڑ روڈ سمیت دیگر منصوبے بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کو ترقی سے جوڑیں گے، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ شاہراہیں صرف راستے نہیں، ترقی، روزگار اور خوشحالی کا ذریعہ ہیں۔
بہتر سڑکوں سے صحت، تعلیم اور روزگار تک رسائی میں آسانی پیدا ہوتی ہے جبکہ مضبوط مواصلاتی نظام صوبے کو معاشی خود کفالت کی راہ پر گامزن کرے گا۔
بلوچستان حکومت کی جانب سے انسانی وسائل پر خصوصی توجہ سے خطے میں غربت کے خاتمے میں مدد ملنے کے ساتھ ترقی و خوشحالی کے نئے راستے کھلیں گے جس کا براہ راست فائدہ بلوچستان کے عوام کو پہنچے گا اور صوبے میں موجود مسائل کے خاتمے میں مدد ملے گی ۔وسائل کا منصفانہ اور شفاف استعمال ضروری ہے جس پر چیک اینڈ بیلنس حکومت کی ذمہ داری ہے۔