کوئٹہ؛ امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولاناہدایت الرحمان بلوچ امیرجماعت اسلامی پنجاب وسطی مولانا جاوید قصوری نے کہا کہ لانگ مارچ کوپنجاب کے عوام نے بہت عزت دی جبکہ مریم اوراس کے چچا شہبازشریف نے کوئی عزت نہیں دی بلوچستان کے گھروں میں ماتم شاہراہوں پرموت کارقص جاری عوام بنیادی ضروریات کوترس رہے ہیں جان ومال محفوظ نہیں۔بلوچستان وپنجاب کے درمیان نفرت تعصب جھوٹاپروپیگنڈہ کرنے والے اسٹیٹ کے لوگ ہیں بلوچوں پنجابیوں کی قاتل بھی اسٹیٹ ہے
ہم اسلام آباد فتح کرنے نہیں جائزجمہوری حقوق مانگنے جارہے ہیں اسلام آباد ہمیں پاکستانی تسلیم کرے یاکھل کرسب کے سامنے بتادیں کہ اسلام آباد پربلوچستان کاحق نہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لانگ مارچ کے چوتھے دن وسطی پنجاب خانیوال ساہیوال اوکاڑہ میں استقبالیہ تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے کیاحق دوبلوچستان لانگ مارچ میں جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی ذمہ داران عبدالمتین اخوندزادہ،،مرتضی خان کاکڑ زاہداختربلوچ بشیراحمدماندائی مولاناعبدالکبیرشاکر پروفیسر محمدایوب منصور،مولانامحمدعارف دمڑ،حافظ نورعلی واضلاع کی قیادت سمیت بڑی تعداد میں کارکنان شریک ہیں۔
ملتان سے لاہور جاتے ہوئے جماعت اسلامی بلوچستان لانگ مارچ قافلے کاپنجاب کے ہرشہرمیں پرتپاک استقبال کیاگیاقائدین پرگل پاشی کی گئی جگہ جگہ مہمانداری کابھی بھرپوراظہارکیاگیااستقبالیہ جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے مولاناہدایت الرحمان بلوچ نے مزیدکہاکہ تمام مظلوم اقوام ملکراسلام آباد کے ظالم حکمرانوں سے حقوق مانگنے کیلئے ہمارے حق دوتحریک میں ساتھ دیں۔
محسن نقوی سرعام اعلان کردیں کہ بلوچستان کااسلام آباد پرکوئی حق نہیں پھرہم واپس چلے چلیں گے بلوچستان بارڈرقانونی تجارت کیلئے کھولناکوئی جرم نہیں جرم یہ ہے کہ سیکورٹی فورسزو لٹیرے خودتو بارڈرزپرغیرقانونی ذاتی کاروبارتجارت چلارہے ہیں تاجروں ومسافروں سے بھاری رشوت لیکرخودمالامال جبکہ قومی خزانہ وعوام کانقصان کررہے ہیں لیکن عام عوام تاجرطبقے کیلئے غیرقانونی سختیاں۔سالانہ85ارب سیکورٹی پرخرچ ہونے کے باوجود عوام محفوظ نہیں۔
پاکستان کے دیگرعلاقوں میں موٹروے میٹرواورنج ٹرین سفرکی جدیدسہولیات میگاپراجیکٹس جبکہ بلوچستان ایک میٹرموٹروے بھی نہیں۔ترقی روزگارتعلیم کاروبارموٹروے اہل بلوچستان پرحرام کیوں۔بلوچستان کے لاپتہ افراد کوبازیاب سیاسی قیدیوں کو رہاچمن کوئٹہ کراچی موٹروے بنائی جائے۔کوئٹہ کراچی شاہراہ پرسالانہ آٹھ ہزارروپے افرادٹریفک سے مرجاتے ہیں مگرحکمرانوں کویہ چیزیں نظرنہیں آریے۔پنجاب میں بلوچستان گوادر کے سی پیک سے ترقیاتی کام جاری اوربلوچستان کویکسر نظرانداز کرنے سے نفرت تعصب دوریاں واحساس محرومی پیداہوگئی ہیں۔بلوچستان عوامی حمایت سے محروم لوگوں کواقتداردینادانشمندی نہیں یہ بلوچستان کے عوام کیساتھ زیادتی سیاست سیاسی جماعتوں کوبدنام کرنے کے مترادف ہے۔بلوچستان میں کنٹرول میڈیافارم47کی حکومت اسلام آباد کے حکمرانوں کی عسکری سیاسی معاشی مداخلت کی وجہ سے مسائل مشکلات وردعمل پیداہواہے ہم اسلام اباد جائیں گے ہماراراستہ نہ روکھے۔