|

وقتِ اشاعت :   July 30 – 2025

بدھ کے روز روس کے ساحل کے نزدیک آنے والے 8.8 شدت کے زلزلے کے بعد متعدد ممالک میں سونامی کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔

زلزلہ پیما مرکز یو ایس جی ایس کے مطابق، بدھ کی صبح روس کے مشرقی ساحلی علاقے کامچٹکا کے نزدیک سمندر میں آنے والے زلزلے کی شدت 8.8 تھی۔

زلزلے کا مرکز کامچٹکا سے 126 کلو میٹر دور اور گہرائی 18 کلو میٹر تھی۔

مقامی حکام کے مطابق، زلزلے کے نتیجے میں کامچٹکا میں تین سے چار میٹر اونچی سونامی کی لہریں پیدا ہوئی۔

کامچٹکا کے گورنر ولادیمیر سولوڈوف نے ٹیلی گرام میسجنگ ایپ پر جاری ایک ویڈیو میں کہا ہے کہ آج کا زلزلہ کئی دہائیوں میں آنے والا سب سے طاقتور زلزلہ تھا۔

روسی اکیڈمی برائے سائنسز کی جیو فزیکل سروس نے خبردار کیا ہے کہ کم از کم ایک مہینے تک 7.5 تک کی شدت کے آفٹر شاکس جاری رہنے کی توقع ہے۔

متعدد ممالک میں سونامی کی وارننگ جاری

روس میں آنے والے زلزلے کے بعد متعدد ممالک بشمول امریکہ، جاپان اور ایکواڈور میں سونامی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔

جاپان میں حکومت نے متاثرہ ساحلی علاقوں سے لوگوں کے انخلا کا حکم دیا ہے جبکہ امریکی ریاست ہوائی میں بھی حکام نے لوگوں کو جزیرہ اوواہو کے مکینوں کو فوری طور پر انخلا کا مشورہ دیا ہے۔

امریکی سونامی وارننگ سینٹر کے مطابق، تقریباً 10 فٹ اونچی سونامی کی لہریں ایکواڈور سے ٹکرا سکتی ہیں۔

اب تک 30 سینٹی میٹر سے 40 سینٹی میٹر کے درمیان اونچی سونامی کی لہریں اب تک شمالی جاپان کے کچھ حصوں سے ٹکرا چکی ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ مزید اونچی لہریں ساحل سے ٹکرا سکتی ہیں۔

جاپان کے ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق، فوکوشیما ڈائیچی اور فوکوشیما ڈائنی نیوکلیئر پلانٹ کے کارکنوں کو نکال کر اونچے مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

2011 میں جاپان میں 9.0 شدت کے تباہ کن زلزلے اور سونامی کے بعد فوکوشیما ڈائیچی پلانٹ تباہ ہو گیا تھا اور اس سے تابکاری بھی پھیلی تھی۔

جاپان کی کابینہ کے چیف سیکرٹری یوشیماسا حیاشی کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

 

جاپان میں 19 لاکھ سے زائد افراد کو نقل مکانی کی ہدایت,شائمہ خلیل، نامہ نگار، ٹوکیو

جاپان میں 19 لاکھ سے زائد افراد کو نقل مکانی کے لیے کہا گیا ہے۔ ان میں سے تقریباً ساڑھے 10 ہزار افراد ہوکائیڈو میں ہیں۔ مقامی میڈیا پر چلنے والی فوٹیج میں ہوکائیڈو میں لوگوں کو عمارتوں کی چھتوں پر جمع ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

حکام مشرقی ساحل کے نزدیک رہنے والوں کو اونچے مقامات طرف جانے کی تاکید کر رہے ہیں۔

جاپان میں بحر الکاہل کے ساحل پر درجنوں سونامی لہروں کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ شمال میں ہوکائیڈو سے جنوب میں واکایاما تک ساحل کے ساتھ پھیلے سینکڑوں کلومیٹر کے علاقے میں رہنے والوں کے لیے انخلا کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سونامی کی لہریں 3 میٹر تک بلند ہوسکتی ہیں۔

ڈی ایل سکیلز وائلہ، ماؤئی میں چھٹیاں منانے آئے تھے۔ چھٹیوں پر آئے درجنوں دیگر افراد کی طرح وہ بھی ٹریفک میں پھنسے ہوئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے وارننگ جاری کیے جانے کے بعد تمام لوگ کسی اونچی جگہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حکام نے ہوائی میں ’تباہ کن‘ سونامی لہروں کی وارننگ جاری کی ہے۔

انھوں نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ حالات نسبتاً پرسکون ہیں۔ ’ہر کوئی باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہے، مجھے نہیں معلوم کہ لوگ جا کہاں رہے ہیں۔‘

’انھوں نے کچھ منٹ پہلے سائرن بجائے تھے جس کے بعد لوگوں کو یہاں سے نکلنا شروع کر دیا۔‘