ملک بھرمیں چینی بحران کاایک بار پھر شدت اختیار کرگیا ہے، چینی مارکیٹوں میں فی کلو 190 روپے میں فروخت کی جارہی ہے ،شوگر ملز مالکان کی جانب سے ہر بار مصنوعی بحران پیدا کیا جاتا ہے تاکہ وہ اربوں روپے بٹور سکیں ،
یہ شوگر مافیاانتہائی بااثر ہے جن میں بیشتر سیاستدان اور ان کے اپنے قریبی عزیز شامل ہیں۔ ماضی سے لے کر اب تک کسی بھی شوگر مل مالک کی پکڑ نہیں ہوئی بلکہ ان کی مرضی و منشاء سے چینی برآمد کی جاتی ہے تاکہ انہیں اربوں روپے کا منافع ہو اور ملک میں چینی کی قلت سے فائدہ اٹھاکر مہنگے داموں چینی عوام کو فروخت کیا جائے ۔شوگر ملز مالکان سے لیکر مارکیٹ تک چینی پہنچانے والے ایک ہی چین میں چلتے ہیں جن کا مقصد ناجائز منافع خوری کرکے عوام کا استحصال کرنا ہے۔ عوام پہلے سے ہی مہنگائی اور دیگر بدترین مسائل کا شکار ہیں
ان کی مالی مشکلات بہت بڑھ گئی ہیں، اب تو غریب عوام اپنا کچن بھی مشکل سے چلاتے ہیں ، مہنگائی اتنیہے کہ ان کی آمدن سے زیادہ اخراجات کا خرچہ ہے۔
چینی بحران پر ہر حکومت نوٹس لیتی ہے اور کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں اس سے بڑا مضحکہ خیز عمل اور کیاہوسکتا ہے کہ جو شوگر مافیا ہے وہ خود یا پھر ان کے اپنے قریبی انہی کمیٹیوں کا حصہ بنتے ہیں۔
بعض وزراء اور اپوزیشن سمیت دیگر سیاسی شخصیات کے شوگر ملز ہیں جس کا علم سب کو ہے ،کوئی بے خبر نہیں تمام معلومات ان کے پاس موجود ہوتی ہیں جو اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو وہ حکومت میں موجود شخصیات اور ان کے قریبی عزیزوں کے نام لیتے ہیں مگر اپنی جماعت میں موجود شخصیات اور ماضی میں اپنی جماعت کے اندر موجود لوگوں کے نام نہیں لیتے جن کے بڑے شوگر ملز ہیں اور انہوں نے بھی اربوں روپے اسی نظام کے ذریعے کمائے ہیں۔ موجودہ چینی بحران اور قیمتوں میں اضافے سے شوگر ملز مالکان نے اربوں روپے کمائے ہیں تمام تر معلومات پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے لائے گئے ہیں۔
آڈیٹرجنرل نے پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کو بتایا ہے کہ چینی کے موجودہ بحران میں شوگر ملز مالکان نے 3 سو ارب روپے زیادہ کمائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کہے گی تو چینی کے موجودہ بحران کا آڈٹ کر دیں گے۔ چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی جنید اکبر خان نے کہا کہ 42 خاندانوں نے یہ 3 سو ارب روپے کمائے۔ کمیٹی کے اجلاس میں وزارتِ صنعت و پیداوار کی طرف سے چینی کی کمی نہ ہونے اور مارکیٹ میں 173 روپے ایکس مل نرخ پر دستیابی کے دعوئوں پر ارکان نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میں رکنِ کمیٹی ریاض فتیانہ نے کہا کہ چینی کی قیمت کی مد میں قوم کے ساتھ 287 ارب روپے کا دھوکا کیا گیا، کیا وجہ تھی کہ راتوں رات ایس آر او جاری کر کے ٹیکسوں میں چھوٹ دی گئی۔
خواجہ شیراز نے کہا کہ کسان کا استحصال کرنے کے لیے تمام حکومتی ادارے ایک ہو جاتے ہیں۔
معین عامر پیرزادہ نے کہا کہ ان شوگر ملز کے مالکان کون ہیں؟ ایکس مل قیمت میں ہر مہینے 2 روپے کا اضافہ کس بنیاد پر ہو رہا ہے؟
سنی اتحاد کونسل کے رکنِ قومی اسمبلی عامر ڈوگر نے الزام لگایا کہ سب سے زیادہ ملز آصف علی زرداری کے ہیں، دوسرے نمبر پر جہانگیر ترین اور تیسرے نمبر پر شریف خاندان کی ملز ہیں۔اس پر ن لیگ کے سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ عامر ڈوگر نے یہ نہیں بتایا کہ ان کی پارٹی کس کے پیسے سے بنی۔ شازیہ مری بولیں الزامات لگانے کی بجائے ثابت کریں۔
سیکریٹری وزارتِ صنعت و پیداوار نے اجلاس کو بتایا کہ گزشتہ سال ملک میں چینی کی پیداوار 76 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن تھی، اس میں سے 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی فالتو تھی، 5 لاکھ ٹن چینی آئندہ سال کے لیے ریزرو رکھی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی کابینہ اور ای سی سی نے 3 مراحل میں 7 لاکھ 90 ہزار ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی، چینی برآمد کر کے 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ زرِمبادلہ کمایا گیا، جب چینی ایکسپورٹ کی گئی مقامی مارکیٹ میں قیمت 143 روپے کلو تھی، اس وقت مارکیٹ میں ایکس مل قیمت 173 روپے فی کلو ہے۔
بہرحال یہ انکشافات حیران کن نہیں، اہم بات یہ ہے کہ کیا شوگر مافیا سے عوام کو نجات دلائی جائے گی؟ نظام اپنا راستہ اپنائے گا؟حکومتی رٹ قائم کی جائے گی؟
عوام کو چینی سستے داموں مارکیٹ میں دستیاب ہوگی؟ شوگر مافیا کی من مانی سے چینی برآمدات کی سہولت کاری ختم کی جائے گی؟ یہ بنیادی سوالات ہیں جنہیں حل ہوتا ہوا نہیں دیکھا جارہا ،نظام اسی طرح چلتا رہے گا کبھی چینی، کبھی آٹا تو کبھی دیگر ضروری اشیاء کا بحران پیدا کرکے مخصوص مافیا رقم بٹورتی رہے گی اور عوام کا استحصال اسی طرح جاری رہے گا۔