|

وقتِ اشاعت :   July 31 – 2025

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی صدارت میں 55 منٹس کی تاخیر سے شروع ہوا، جس کے ایجنڈے میں توجہ دلاؤ نوٹس، آڈیٹ رپورٹس، غیر سرکاری قراردادیں اور وقفہ سوالات شامل تھے۔ اجلاس کے دوران سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے ارکان منظور کاکڑ، بلال احمد اور دیگر سینیٹرز نے بلوچستان اسمبلی کا دورہ کیا اور اسمبلی کی کارروائی کا مشاہدہ کیا۔ اجلاس میں وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی کی جانب سے بخت محمد کاکڑ نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی مختلف رپورٹس ایوان میں پیش کیں، جن میں پرفارمنس آڈیٹ رپورٹ برائے پیکیج آف کچھی واٹر سپلائی پروجیکٹ فیز II، نصیر آباد بابت مالی سال 2014 تا 2023 (آڈٹ سال 2023-24)، اسپیشل آڈیٹ رپورٹ برائے اکاؤنٹس آف دی پروونشل کوآرڈینیٹر ایکسپینڈڈ پروگرام آن ایمیونائزیشن (EPI) مالی سال 2018-19 تا 2022-23، آڈٹ رپورٹ ان دی اکاؤنٹس آف دی گورنمنٹ آف بلوچستان (آڈٹ سال 2024-25)، اور آڈٹ رپورٹ ان دی اکاؤنٹس آف لوکل گورنمنٹ اینڈ لوکل کونسلر بلوچستان (آڈٹ سال 2024-25) شامل تھیں۔

ایوان نے تمام آڈیٹ رپورٹس قائمہ کمیٹی کے حوالے کر دیں۔ اجلاس کے دوران رکن اسمبلی زابد علی ریکی نے پوست کی کاشت کے خلاف قرارداد پیش کی، جس میں کہا گیا کہ پوست کی کاشت اس وقت صوبہ بلوچستان میں ایک خطرناک ناسور بن چکی ہے، جس نے نوجوانوں، بزرگوں اور حتیٰ کہ بچوں تک کو نشے جیسی لعنت میں مبتلا کر دیا ہے، اور یہ زہر ہمارے معاشرے کی جڑیں کھوکھلا کر رہا ہے۔ قرارداد کے مطابق حکومت کی جانب سے اس سنگین مسئلے پر کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں اور صوبے کے اکثر علاقوں میں سرعام پوست کی کاشت جاری ہے جہاں قانون کی عملداری نہ ہونے کے برابر ہے۔

قرارداد میں مزید کہا گیا کہ منافع کی لالچ اور مجرمانہ خاموشی نے ہماری نسلوں کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے، اب وقت آچکا ہے کہ اس غیر انسانی کاشت کی کھل کر بھرپور مذمت کی جائے اور پوست کی کاشت کی روک تھام کے لیے فوری اور عملی اقدامات اٹھانا انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے۔ قرارداد میں حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر پوست کی کاشت پر پابندی عائد کرے، کاشت کی گئی فصل کو تلف کرنے کے اقدامات کرے، اور ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔