|

وقتِ اشاعت :   August 4 – 2025

لاہور( این این آئی)پاکستان تحریک انصاف آج ( منگل)5اگست کو ملک بھر میں احتجاج کرے گی ،پی ٹی آئی کے رہنمائوں کی قیادت میں کارکنان احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالنے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ بانی چیئرمین عمران خان کی 5اگست 2023کو گرفتاری کے تناظر میں5اگست کے دن کویو م سیاہ کے طور پر بھی منایا جائے گا ،

پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا ہے کہ رہنمائوں اورکارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں اورگرفتاریاں کی گئی ہیں ۔

پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان کے مطابق آج 5اگست کو ملک بھر میں جگہ جگہ پر احتجاج ہوں گے اور ریلیاں نکالی جائیں گی اور اس کے ذریعے پر امن احتجاجی تحریک کا بھی آغاز ہوگا۔

دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کو دو سال قبل پانچ اگست کے روز گرفتار کئے جانے پر آج پانچ اگست کے دن کو یومِ سیاہ کے طور پر بھی منایا جائے گا۔

ترجمان کے مطابق احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں میں کارکنان پاکستان کے پرچم سمیت سفید پرچم اور پارٹی پرچم ہمراہ لائیں گے ۔ ترجمان کے مطابق تحریک انصاف پنجاب نے بھی اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں،پنجاب بھر میں جگہ جگہ احتجاج اور ریلیاں نکالی جائیں گی ،5اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔

پارٹی قیادت کی جانب سے تمام ارکان اسمبلی ،ٹکٹ ہولڈر اور تنظیموں کو بھرپور احتجاج کی ہدایت جاری کر دی گئی ہیں۔

پی ٹی آئی کی جانب سے پنجاب بھر کے ہر حلقے میں احتجاج کی کال دی گئی ہے ،احتجاج کسی ایک جگہ کی بجائے تمام حلقوں میں ہوگا ،لاہور کے تمام حلقوں میں بھی احتجاج کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

دوسری جانب پولیس نے امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے اپنی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے اہم سرکاری عمارتوں کے باہر اور مرکزی شاہراہوں پراینٹی رائیٹ فورس کے دستے تعینات ہوں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 5اگست کو ملک گیر احتجاج کی کال دینے کے باوجود قیادت واضح حکمت عملی مرتب نہیں کر سکی ،قیادت حتمی فیصلے کے حوالے سے تقسیم رہی جس کی وجہ سے کارکنان بھی تذبذب کا شکار ہیں ۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت نے پنجاب بھر کے تمام حلقوں میں احتجاج کرنے کی ہدایت جاری کیں لیکن لاہور میں احتجاج کی نوعیت اور مقام کے حوالے سے قیادت میں اختلاف رہا۔پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض سینئر رہنمائوں نے لاہور میں تمام حلقوں کے کارکنان کو یکجا کر کے ایک بڑی مشترکہ ریلی نکالنے کی تجویز دی جبکہ چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ سمیت دیگر رہنما اس موقف کے حامی نظر آئے کہ کہ قیادت اور کارکنان اپنے اپنے حلقوں میں الگ الگ احتجاج کریں تاکہ گرفتاریوں اور ممکنہ مقدمات سے بچا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق گرفتاریوںکے خوف کی وجہ سے پی ٹی آئی رہنما بھی کارکنوںکو موبلائز کرتے ہوئے نظر نہیں آئے جس کی وجہ سے کارکنان بھی احتجاج میں دلچسپی نہیں دکھا رہے ۔

پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا ہے کہ 5اگست کو احتجاج کی کال پر پولیس نے بھرپور کریک ڈائون کر کے درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔مذکورہ افراد کو شہر کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا جن میں سے کچھ کو شورٹی بانڈز پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار سادی کپڑوں میں متحرک رہنمائوں اورکارکنان کے گھروں کے اطراف میں موجود ہیں ۔ذرائع کے مطابق حکمت عملی کے تحت پی ٹی آئی کے رہنما اور کارکنان پیشگی گھروں کی بجائے خفیہ مقامات پررہ رہے ہیں جو آج پانچ اگست کو احتجاج کے لئے باہر نکلیں گے۔

شاہدرہ پولیس نے پی ٹی آئی رہنما اکمل خان باری کے گھر چھاپہ مارا تاہم اکمل خان باری فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ بتایا گیا ہے کہ پولیس نے ان کے چھوٹے بھائی محمود اللہ خان کو گرفتار کرلیاہے۔