پاکستان اور ایران نے دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے اور سالانہ تجارتی حجم کو 8 ارب ڈالر تک پہنچانے پر اتفاق کیا ہے، وزارتِ تجارت کے بیان کے مطابق اس اتفاق رائے کو ’اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کے ایک نئے مرحلے‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
پاکستان اور ایران کے قریبی تعلقات ہیں، اور دونوں ممالک توانائی اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں متعدد معاہدے کر چکے ہیں۔
یہ فیصلہ وفاقی وزیر تجارت جام کمال اور ایرانی وزیر برائے صنعت، کان کنی اور تجارت، محمد اتابک کے درمیان ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے پاکستان کے 2 روزہ سرکاری دورے کے موقع پراتوار کے روز ہونے والی ملاقات میں کیا گیا۔
دونوں ممالک کے اس نئے عزم کی عکاسی کی کہ وہ تجارت کو تیز کریں، سرحدی رکاوٹوں کو ختم کریں اور ترجیحی شعبوں میں اعتماد پر مبنی شراکت داری قائم کریں۔
ملاقات کے دوران وفاقی وزیر جام کمال نے تصور پیش کیا کہ اگر مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے تو پاکستان اور ایران کے درمیان دو طرفہ تجارت آئندہ برسوں میں بآسانی 5 سے 8 ارب ڈالر سالانہ کی حد عبور کر سکتی ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ ٹارگٹڈ تجارتی وفود ترتیب دیے جائیں، جن میں وفاقی اور صوبائی چیمبرز آف کامرس کے نمائندگان شامل ہوں، تاکہ مارکیٹ تک رسائی اور ریگولیٹری سہولت کاری پر توجہ مرکوز کی جا سکے۔ ہم نے یہ ماڈل بیلا روس سمیت دیگر جگہوں پر کامیابی سے آزمایا ہے، آئیے ایران کے لیے بھی یہی طریقہ اپنائیں، ان شعبوں سے آغاز کریں جہاں باہمی فائدے کی سب سے زیادہ گنجائش موجود ہے۔ موجودہ تجارتی راہداریوں اور سرحدی سہولتوں کے مؤثر استعمال پر بھی اتفاق کیا گیا، وفاقی وزیر جام کمال نے زور دیا کہ خطے میں تجارت کی صورت میں جو فوائد آسیان ممالک نے حاصل کیے، اسی طرح پاکستان اور ایران کو بھی چاہیے کہ جغرافیائی قربت کا فائدہ اٹھائیں۔
جغرافیہ ایک فائدہ ہے، پاکستان اور ایران کو فاصلے کے اس رعایتی فائدے کو استعمال کرنا چاہیے، اگر ہم نے یہ موقع ضائع کیا تو وقت اور لاگت دونوں کے نقصان کا سامنا ہوگا۔ محمد اتابک نے پاکستان سے ایران کو برآمدات بڑھانے کے لیے جاری بات چیت کا ذکر کیا اور حال ہی میں طے پانے والے معاہدوں پر جلد عملدرآمد کی ترغیب دی۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تاجر اور صنعت کار تیار ہیں۔ وہ ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں۔
اب انہیں صرف ہماری طرف سے ایک واضح اور مستقل سہولت کاری کا نظام درکار ہے۔
دو طرفہ فوائد سے آگے بڑھ کر یہ رابطہ ترکی، وسطی ایشیا، روس اور مشرق وسطیٰ کے کچھ حصوں تک پھیل سکتا ہے جو ایک مضبوط اور پائیدار اقتصادی بلاک کی بنیاد بن سکتا ہے۔
محمد اتابک نے اعلیٰ سطحی دوروں کے دوران باقاعدہ بی ٹو بی ڈے منعقد کرنے کی تجویز کی حمایت کی اور ایرانی کاروباری گروپوں کو پاکستان بھیجنے کی پیشکش بھی کی۔
دونوں وزراء نے پاکستان اور ایران کے تاریخی تعلقات کا اعتراف کیا اور کہا کہ حالیہ علاقائی و عالمی حالات نے دونوں ممالک کو مزید قریب کر دیا ہے۔
محمد اتابک نے پاکستانی حکومت کے فعال کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر آپ اور آپ کی ٹیم کی فوری شرکت اور عزم نہ ہوتا تو ہم اس مقام تک نہ پہنچتے، اب جو رفتار ہم نے حاصل کی ہے اسے باقاعدہ تجارتی نتائج میں بدلنا ہوگا۔جام کمال نے بھی اسی جذبے کا اظہار کیا اور کہا کہ دونوں حکومتوں اور نجی شعبے نے مل کر کام کرنے کی شدید خواہش ظاہر کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سفارت کاری میں ایک ایسا لمحہ آتا ہے جب لوہا گرم ہوتا ہے، یہ وہی لمحہ ہے، ہمیں فوری عمل کرنا ہوگا، تاخیر چیزوں کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ جذبہ اور سیاسی عزم کے بعد ضابطہ کار آتا ہے، اور پاکستان ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو باقاعدہ چینلز جیسے جوائنٹ اکنامک کمیشن (جے ای سی)، بی ٹو بی تبادلے، اور شعبہ وار وفود کے ذریعے مزید گہرا کرنے کے لیے تیار ہے۔ دونوں وزراء نے زراعت، لائیو اسٹاک، خدمات، توانائی، اور سرحد پار لاجسٹکس جیسے مخصوص شعبوں کی نشان دہی پر بھی اتفاق کیا، جن میں مستقبل میں تعاون بڑھایا جا سکتا ہے۔
پاکستان ایران جوائنٹ اکنامک کمیشن کے اگلے اجلاس کو تیزی سے منعقد کرنے، عوامی اور نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز کی شرکت کو یقینی بنانے، اور سرحدی سہولت و تجارتی لاجسٹکس کو ترجیح دینے پر اتفاق کیا گیا۔ اعلیٰ سطح کی سیاسی ہم آہنگی اور باہمی اعتماد کے ساتھ پاکستان اور ایران بظاہر اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کے لیے تیار ہیں جو خطے کی تجارت کو بدل سکتا ہے۔
پاک ایران تجارتی معاہدے سے دونوں ممالک کے سرمایہ کار ،کاروباری طبقہ اور عوام کو براہ راست فائدہ پہنچے گا جس سے دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں کے لوگ بھی مستفید ہونگے۔
ایران کے ساتھ گیس معاہدے کی تکمیل سے توانائی کے بڑے بحران سے بھی ملک نکل سکتا ہے جس کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
ایران سے قانونی طریقے سے پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری بھی معاشی ترقی میں مدد دینے کے ساتھ عوام کی سہولت کا سبب بنے گی، نیز بجلی بھی سستی قیمت میں حاصل کی جاسکتی ہے۔
پاک ایران تجارت کو مضبوط کرنے کیلئے معاشی ٹیم کو نئے آئیڈیاز پر بھی کام کرنا چاہئے جس سے ہم فائدہ اٹھا سکیں۔
پاک ایران تجارتی معاہدہ، دونوں ممالک میں معاشی انقلاب کی راہیں کھلیں گی
![]()
وقتِ اشاعت : August 5 – 2025