احتجاجی سے نیشنل پارٹی کے مرکزی سنئیر نائب صدر میر شاوس حاصل بزنجو جماعت اسلامی کے صوبائی امیر و رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ مرکزی ترجمان علی احمد لانگو صوبائی جنرل سیکرٹری ایڈوکیٹ چنگیز حئ بلوچ رکن مرکزی کمیٹی ڈاکٹر رمضان ہزارہ عیوض علی کشتمند اور ریاض زہری نے خطاب کیا۔
احتجاجی مظاہرے میں قاتلوں کی گرفتاری اور انتظامیہ کے خلاف شدید نعرہ بازی کی گئی.احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے چوروں کے ہاتھوں ذاکر حسین ہزارہ کے قتل کے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دن دہاڑے نوجوان کو گولی مار کر زندگی چھین لی جاتی لیکن انتظامیہ و پولیس خود کو لاتعلق رکھتی ہے۔جو نہ صرف ناقابل افسوس ہے بلکہ شدید طور پر قابل مذمت ہے۔رہنماوں نے کہا کہ اربوں روپے امن و مان کے نام ریلیز کیئے جاتے ہیں کوئٹہ کے ہر چوک میں پولیس و دیگر سیکورٹی ادارے موجود ہیں لیکن پھر بھی عوام کی جان و مال محفوظ نہیں۔
رہنماوں نے کہا کہ کچھی سمیت نصیر آباد ڈویژن میں چور سڑکوں میں آتے ہیں اور لوٹ مار کرتے ہیں۔لیکن کوئی روک تھام نہیں رہنماؤں نے کہا کہ جو مینڈیٹ چوری کرکے اسمبلی اور حکومت کو پہنچے ہیں جب سرکاری پوسٹوں میں تعنیاتی پیسوں کے زریعے ہو تب امن نہیں آئے گا بلکہ عوام کا خون بہایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ نیٹ ورک بند کرنا اور پانچ بجے کے بعد سفر کرنے کی اجازت نہ دینا حکومت خود کی ناکامی کا اعتراف کررہی ہے۔احتجاجی مظاہرے سے قاتلوں کی جلد گرفتاری اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا