بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں مضر صحت اور غیر معیاری کھانے، مشروبات، آئسکریم کی فروخت میں اضافہ ہورہا ہے۔
شہر کے اہم ترین شاہراہوں پر مختلف فوڈ پوائنٹس، ریسٹورنٹس کی بھر مار ہے جبکہ جگہ جگہ ریڑھی بانوں نے بھی ڈیرے جما لئے ہیں جو مختلف غذائی اجناس سمیت غیر معیاری مشروبات اور آئسکریم فروخت کرتے ہیں جو انسانی صحت کیلئے انتہائی مضر ہیں جس سے شہریوں کے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہے جو آگے چل کر خطرناک امراض کا سبب بنتے ہیں ۔
گزشتہ روز کوئٹہ کے علاقے سریاب میں مبینہ طور پر مضر صحت آئسکریم کھانے سے 20 سے زائد بچوں کی حالت غیر ہوگئی۔ سول اسپتال کوئٹہ کے ایم ایس کے مطابق سریاب کے علاقوں کیچی بیگ، قمبرانی روڈ اور بشیر چوک کے علاقوں سے 20 سے زائد بچوں کو بے ہوشی کی حالت میں سول اسپتال لایا گیا۔
متاثرہ بچوں سے متعلق مبینہ طور پر بتایا جارہا ہے کہ انہوں نے ایک آئس کریم کھائی تھی جو مضر صحت تھی۔
ایم ایس سول اسپتال ڈاکٹر عبدالہادی کے مطابق 8 بچوں کو ابتدائی طبی امدا دکے بعد اسپتال سے فارغ کردیا گیا ہے جب کہ12 بچوں کو ابھی تک نگہداشت میں رکھا گیا تاہم کسی بچے کی حالت تشویشناک نہیں ہے۔
دوسری جانب پولیس نے والدین کی اطلاع پر آئس کریم فروخت کرنے والے کی تلاش شروع کردی ہے۔
مضر صحت اشیاء کی فروخت کو روکنا متعلقہ محکمہ اور ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریسٹورنٹ، فوڈ پوائنٹس میں کھانے کے معیار اور کوالٹی کو چیک کریں تاکہ مضر صحت پکوان سے شہریوں کو محفوظ رکھا جاسکے جبکہ شہر کی اہم شاہراہوں پر جگہ جگہ ریڑھی بان مضر صحت آئسکریم، مشروبات، قلفی وغیرہ فروخت کرتے ہیں ان کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ شہریوں کوبیماریوں سے بچایا جاسکے ۔
شہریوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ غیر معیاری اشیاء سے پرہیز کریں جو ان کی صحت کیلئے نقصاندہ ہے۔
کوئٹہ شہر میں غیر معیاری کھانے پینے کی اشیاء کی فروخت، انسانی جانوں کیلئے خطرہ!
![]()
وقتِ اشاعت : August 18 – 2025