پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک پچھلے چند سالوں سے قدرتی آفات کی وجہ سے شدید متاثر رہے ہیں جس سے جانی و مالی نقصانات بڑے پیمانے پر ہوئے۔
شدید سیلاب اور دیگر قدرتی آفات موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آرہے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک عشرے سے پوری دنیا میں شدید موسموں کے واقعات میں اضافے کے ساتھ ساتھ اِن میں شدت بھی آتی جارہی ہے، جِن میں پاکستان بھی شامل ہے۔
موسم کی تبدیلی کی باتیں حقیقت پر مبنی ہیں۔
نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے اکثر علاقوں میں پچھلے آٹھ دس سالوں سے قدرتی آفات کے شدید واقعات ہورہے ہیں، اور آنے والی ہر قدرتی آفت پچھلی سے زیادہ سنگین ہوتی ہے۔
ملک میں تواتر سے آنے والے سیلاب کی وجہ موسم کی تبدیلی ہے، جس سے نبردآزما ہونے کے لیے حکومتِ پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی کی قومی پالیسی مرتب کی ہے۔
گزشتہ دنوں ملک کے مختلف علاقوں خاص کر خیبرپختونخواہ میں بارشوں اور سیلاب نے بڑی تباہی مچائی جس سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے حالیہ فلیش فلڈنگ سے بہت جانی و مالی نقصان ہوا، ماحولیاتی تبدیلی اور قدرتی آفت کے ساتھ انسانوں کی پیدا کردہ مصیبت نے تباہی میں اضافہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں حالیہ سیلاب سے جاں بحق ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت کی گئی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی گئی۔
کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم بونیر گئے وہاں سیلاب سے بے پناہ جانی نقصان ہوا، وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت سے بھرپور ہاتھ بٹایا ہے، چیئرمین این ڈی ایم اے نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان بھجوایا ہے۔
ان کا کہنا تھا افواج پاکستان بھی امدادی کاموں میں بھرپور حصہ لے رہی ہیں، سپہ سالار بھی میرے ساتھ تھے اور وہ امدادی کاموں کو لیڈ کر رہے ہیں، افواج پاکستان نے مشکل ترین علاقوں میں پہنچ کر لوگوں کو نکالا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا 2022 میں بھی شدید آفت آئی جس کا نشانہ سندھ اور بلوچستان تھے، سندھ میں بہت زیادہ تباہی ہوئی تھی اور 100 اموات ہوئی تھیں، اس بار 700 جانوں کا ضیاع ہوا ہے، خیبر پختونخوا میں بہت زیادہ اموات ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں وزارت موسمیاتی تبدیلی کی ذمہ داری بڑھ چکی ہے، سستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اداروں کو بھی اس میں حصہ ڈالنا ہے، کراچی میں شدید بارش ہوئی، وزیراعلیٰ سندھ اور بلاول بھٹو سے میں نے اظہار افسوس کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی اور قدرتی آفت کے ساتھ انسانوں کی پیدا کردہ مصیبت نے تباہی میں اضافہ کیا ہے، گلیات وہ علاقے تھے جہاں کوئی ایک درخت نہیں گراسکتا تھا، گلیات میں درختوں کی بہت کٹائی ہوئی ہے، آج گلیات چلے جائیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گلیات میں درخت کاٹ کاٹ کر پانی کے راستوں میں ہوٹل اور مکان بنا کر تباہی کو دعوت دی گئی، 2022 میں گلیات میں درخت کاٹ کر غیر قانونی تعمیرات ہوتے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔
بہرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک چیلنج ہے مگر ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری یہی بنتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی صورتحال کو سنجیدگی سے لیں شجر کاری کریں درختوں کی کٹائی سے گریز کریں جبکہ حکومت بھی نظام کی بہتری پر خصوصی توجہ دے ،نکاسی آب سمیت دیگر موٹر اقدامات اٹھائے جو آفت کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔
ملک میں موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات، آفات سے نمٹنے کیلئے موثر اقدامات کی ضرورت!
![]()
وقتِ اشاعت : August 23 – 2025