|

وقتِ اشاعت :   August 26 – 2025

کوئٹہ:  سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کی مقامی فورس کو سازش کے تحت پولیس میں ضم کرکے نوآبادیاتی سیکورٹی نظام لایا جارہاہے صوبے کا ہر فرد اسمبلی میں بیٹھے عوامی نمائندگی کے دعویدار روایتی ادارے کیخلاف ہونے والی سازشوں کا راستہ روکے۔

اپنے جاری ایک بیان میں نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا کہ لیویز فورس نہ صرف بلوچستان کے ایک روایتی ادارہ کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ اس فورس کو سماج کا تعاون اور مدد حاصل ہے جس کے نتیجے میں صوبے کے اکثر علاقوں میں امن وامان قائم صوبے کے لوگوں کا روزگار بھی اس فورس سے وابستہ تھا، تاہم بلوچستان میں لیویز کو پولیس میں ضم کرکے نوآبادیاتی سیکورٹی نظام لایا جارہاہے

جس کی مذمت کرتے ہیں اسمبلی میں بیٹھے لوگوں کو بھی یہ سوچنا چائیے کہ وہ اپنی آئندہ نسلوں کو کیا جواب دیںگے؟ انہوںنے کہاکہ بلوچستان میں لیویز کے نظام کو برقرار رکھا جائے جہاں تک حالات خراب ہونے کی بات ہے کراچی میں سالوں تک حالات خراب رہے آیا وہاں لیویز تعینات تھی؟قیام امن برقرار رکھنے کے ذمہ دار اندرونی سیکورٹی کے ادارے ہیں،

انہوںنے اس امر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ لیویز کو پولیس میں ضم کرکے باہر سے لوگوں کو لایا جائیگا جنہیں بلوچستان کے رسم ورواج کا کوئی علم نہیں یہ صرف اپنے معاملات کو چلائیں گے۔ انہوںنے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے ہرفرد اور اسمبلی میں بیٹھے عوامی نمائندگی کے دعوایداروں کی قومی ذمہ داری ہے کہ وہ اس نوآبادیاتی سیکورٹی نظام کا راستہ روکیں۔