|

وقتِ اشاعت :   August 26 – 2025

حکومت بلوچستان نے صوبے کی ترقی، عوام اور تاجروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ’ بینک آف بلوچستان‘ کے قیام کا اعلان کردیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس ہوا جس میں ’ بینک آف بلوچستان’ کے قیام کی ابتدائی فزیبلٹی رپورٹ پیش کی گئی جسے قابلِ عمل قرار دیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے ایک ہفتے کے اندر آپریشنل پلان مرتب کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بینک آف بلوچستان کے قیام سے صوبے کے عوام، تاجروں اور سرمایہ کاروں کو معیاری اور آسان بینکنگ کی سہولیات میسر ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے بلوچستان کی معیشت میں نمایاں ترقی ہوگی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ صوبے کے نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع فراہم کیے جائیں گے اور بینک بلوچستان کی معیشت میں ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بینک صوبائی وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال کرتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار کو تیز کرے گا۔
اجلاس میں بینکنگ سیکٹر کے ماہرین نے آن لائن شرکت کی اور بینک آف بلوچستان کے قیام کے منصوبے کو جلد از جلد فعال بنانے پر اتفاق کیا۔
\بینک کو پہلی بار 2017ء میں اس وقت کے گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان اشرف محمود وتھرا نے تجویز کیا تھا۔
بینک آف بلوچستان کا تصور صوبے کے اندر بینکنگ کی سہولیات کو بڑھانے اور کمرشل بینکنگ سیکٹر کے قدموں کو مضبوط کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ بینک ایک تجارتی ادارے کے طور پر کام کرے گا جبکہ ایک سرکاری بینک کے طور پر بھی کام کرے گا۔
بلوچستان میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے بینک آف بلوچستان کا قیام انتہائی خوش آئند عمل ہے جس سے مقامی تاجروں عوام کو فائدہ پہنچنے کے ساتھ ترقیاتی عمل میں تیزی آئے گی جبکہ صوبے کو مالی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔
موجودہ حکومت کی جانب سے خطے میں غربت کے خاتمے اور خوشحالی کیلئے اہم فیصلے کئے جارہے ہیں جس کے مستقبل میں مثبت نتائج برآمد ہونگے۔
بلوچستان ملک کا نصف حصہ ہے جبکہ آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے مگر وسائل سے مالا مال خطہ ہے۔
بلوچستان حکومت صوبے کو معاشی، سماجی چیلنجز سمیت دیگر مسائل سے نکالنے کیلئے معاشی پالیسیاں مرتب کرے جو مستقل بنیادوں پر ہوں ،اس سے بلوچستان میں ترقی کے نئے راستے کھلیں گے جو خطے کو نہ صرف غربت سے نکالیں گے بلکہ مسائل میں کمی اور ترقی کا سبب بھی بنیں گے۔