|

وقتِ اشاعت :   August 30 – 2025

بلوچستان کے سب سے بڑے اور اہم منصوبے ریکوڈک میں دنیا کے بڑے ممالک سرمایہ کاری کرنے جارہے ہیں جس سے ملک خاص کر بلوچستان میں معاشی خوشحالی آئے گی اور بلوچستان کی محرومیوں اور پسماندگی کے خاتمے سمیت غربت میں کمی کے واضح امکانات ہیں۔

تعلیم، صحت دیگر بنیادی سہولیات عام لوگوں تک پہنچانے کیلئے حکومت بلوچستان اور وفاقی حکومت پر عزم ہیں۔

اب سب سے پہلے بلوچستان کی ترقی کو ترجیح دی جائے گی تاکہ بلوچستان کے عوام میں موجود احساس محرومی کا خاتمہ ہوسکے اور اس ترقی کے عمل سے بلوچستان کے عوام براہ راست مستفید ہوں۔جاپان بینک برائے بین الاقوامی تعاون نے پاکستان کے ریکو ڈک منصوبے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔مذکورہ بینک کے وفد نے و فاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے ملاقات کی، وفد کی قیادت جے بی آئی سی میں کان کنی اور میٹل فنانس کے ڈائریکٹر جنرل ٹارو کیٹو نے کی۔

ملاقات میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ریکوڈک منصوبے میں جاپان بینک کی دلچسپی خوش آئند ہے، پاکستانی معیشت میں سرمایہ کاری میں جاپانی دلچسپی اور اعتماد کو سراہتے ہیں۔

ریکوڈک منصوبے کو وفاقی و صوبائی سطح پر مکمل حمایت حاصل ہے، ریکوڈک منصوبہ پاکستان میں ذمہ دارانہ اور پائیدار کان کنی کے معیار کو قائم کرے گا۔ علی پرویز ملک نے مزید کہا کہ مائننگ فریم ورک کی ہم آہنگی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل جے بی آئی سی ٹارو کیٹو نے کہا کہ جاپان بینک کان کنی سمیت توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر کام کرے گا۔

ریکوڈک منصوبے کی کان کنی عمر37 سال پر محیط ہے، ریکوڈک منصوبے پر دو مرحلوں میں کام ہوگا، پہلے مرحلے میں 5.6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی۔

ریکوڈک منصوبے سے 1.31 کروڑ میٹرک ٹن تانبہ حاصل ہوگا اور 1.79 کروڑ اونس سونا پیدا ہونے کی توقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق فی ٹن تانبہ تقریباً 9 ہزار 813 ڈالرکا ہے جب کہ فی اونس سونا تقریباً 3040 ڈالرکاہے۔ دونوں سے 37 سال میں 183ارب ڈالر مالیت کی دھاتیں اور تانبہ نکلے گا، اس میں سے تقریباً 91 ارب ڈالر بارک گولڈ کے ہوں گے، بلوچستان حکومت کا حصہ اندازاً 45 ارب ڈالر ہوگا۔

او جی ڈی سی ایل کا 5.6 ارب ڈالر کے ریکوڈک مائننگ پروجیکٹ میں 8.33 فیصد شیئر ہوگا، ریکوڈک پروجیکٹ کے 2028 میں پہلے مرحلے سے سالانہ 45 ملین ٹن پروسیسنگ شروع ہوگی۔

ریکوڈک منصوبے سے اربوں روپے کے محاصل سے بلوچستان حکومت صوبے میں نئے ترقیاتی منصوبوں کی جال بچھاسکے گی ،انفراسٹرکچر کی ترقی سے خوشحالی کے نئے راستے کھلیں گے۔ امید ہے کہ بلوچستان آئندہ چند برسوں کے دوران دیگر صوبوں کے برابر آئے گا اور درپیش چیلنجز اور مسائل کا خاتمہ کرے گا۔