بلوچستان کے دارالخلافہ کوئٹہ میں منگل کے دن بلوچستان نیشنل پارٹی کے جلسہ گاہ کے باہر بم دھماکے میں 15 افراد جان سے گئے اور 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان کے مطابق سریاب روڈ پر واقع شاہوانی اسٹیڈیم کی کار پارکنگ میں اس وقت دھماکہ ہوا جب جلسہ ختم ہوا اور پارٹی کارکنان اسٹیڈیم سے باہر نکل رہے تھے۔
بی این پی کی جانب سے دعویٰ کیا گیاہے کہ حملہ خود کش لگتا ہے تاہم سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
دھماکے کے وقت بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل ،تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور دیگر پارٹیوں کے رہنماء جلسہ گاہ سے نکل چکے تھے۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے مطابق حکومت نے شاہوانی اسٹیڈیم میں دھماکے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے ۔
منگل کو بلوچستان نیشنل پارٹی کے بزرگ اور ممتاز قوم پرست رہنما سردار عطااللہ مینگل کی برسی کے موقع پر جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا تھا۔
جلسے میں بلوچستان کے مختلف پارٹیوں کے سربراہ اور نمائندے شریک تھے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کوئٹہ میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے جلسے کے باہر ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور دھماکے میں ملوث عناصر کی نشاندہی کر کے انہیں قرار واقعی سزا دلائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد بلوچستان کے امن اور ترقی کے دشمن ہیں اور معصوم شہریوں پر بزدلانہ حملے کسی صورت برداشت نہیں کیے جا سکتے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بھی شاہوانی اسٹیڈیم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ انسانیت دشمنوں کی بزدلانہ کارروائی ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے، ہسپتال انتظامیہ اور طبی عملے کو الرٹ رہنے اور زخمیوں کے علاج میں کوئی کوتاہی نہ برتنے کی ہدایت کی ہے۔
بہرحال بلوچستان میں امن و امان کا مسئلہ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے جس سے حکومت بلوچستان نمٹنے کی کوشش کررہی ہے۔
قیام امن کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے، بی این پی جلسے کے علاوہ بھی بدامنی کے دیگر واقعات کا مقصد بلوچستان میں عدم استحکام پھیلانا ہے تاکہ صوبے کے نہ صرف امن کو خراب کیا جائے بلکہ ترقی کے عمل کوبھی روکا جائے۔
موجودہ نازک حالات میں تمام سیاسی جماعتوں کو بلوچستان میں قیام امن اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ایک پیج پر ہونا ضروری ہے۔
بی این پی کے جلسے میں دھماکے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دہشت گرد صوبے میں افراتفری و انارکی پھیلاکرسیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی سازش کررہے ہیں ،اس سازش کو ناکام بنانے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو بلوچستان میں امن کی بحالی کیلئے مشترکہ کوششیں کرنا ہونگی، سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر صوبے میں امن کی بحالی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
بلوچستان کے عوام نے بدامنی کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان اٹھایا ہے اب مزید بلوچستان بدامنی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
بی این پی جلسے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر سب کو صدمہ ہے، یہ بھی شکر ہے کہ اس واقعے میں بلوچستان کی قیادت محفوظ رہی اگر قیادت کو نقصان پہنچتا تو یقینا صورتحال مزید خراب ہوسکتی تھی دہشتگرد اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوئے۔
بلوچستان کو مزید سانحات سے بچانے کیلئے حکومت بلوچستان اور بلوچستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو ملکر کام کرنا چاہئے تاکہ صوبے سے بدامنی کا خاتمہ ہو اور صوبہ ترقی و خوشحالی کی جانب گامزن ہوسکے۔
بی این پی کے جلسہ میں دھماکہ، سیاسی انتشار و انارکی پھیلانے کی سازش!
![]()
وقتِ اشاعت : September 4 – 2025