پاک چین دوستی کی جڑیں انتہائی مضبوط ہیں۔
دونوں ممالک ایک دوسرے کے کلیدی مفادات اور اہم تحفّظات سے وابستہ امور میں ہمیشہ ایک دوسرے کی مضبوطی سے حمایت کرتے ہیں\۔
دونوں ممالک کے درمیان دفاعی، تجارتی، سفارتی تعلقات عالمی سطح پر مثالی ہیں۔
پاک چین دوستی کی تاریخی حیثیت ہے ہر مشکل وقت میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی و ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اب دونوں ممالک تجارتی میدان میں نئے منازل طے کررہے ہیں۔
کے بعد چینی وزیراعظم کی جانب سے وزیراعظم پاکستان کے اعزاز میں ایک پروقار ظہرانہ دیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے پاک چین تعلقات کی مثبت رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا جب کہ وزیراعظم نے پاکستان کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے غیر متزلزل حمایت پر چینی قیادت اور قوم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
دونوں رہنماؤں نے صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان 2 ستمبر 2025 کو ہونے والی ملاقات میں طے پانے والے اہم اتفاق رائے کی روشنی میں پاک چین ہمہ موسمی تزویراتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر مشترکہ ایکشن پلان 29-2024 پر دستخط کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جاری اصلاحاتی اقدامات کے مثبت نتائج چین کی بھرپور حمایت کے باعث ممکن ہو سکے ہیں، انہوں نے جلد ہی چینی کیپٹل مارکیٹ میں پانڈا بانڈز کی فراہمی کے پاکستان کے ارادے کا بھی اظہار کیا۔
وزیر اعظم نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی اہم شراکت کو اجاگر کیا جب کہ قراقرم ہائی وے اور ایم ایل ون کو دوبارہ ترتیب دینے اور گوادر پورٹ کی آپریشنلائزیشن کے جلد نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔
بزنس ٹو بزنس تعاون اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے چینی وزیر اعظم کو بیجنگ میں ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس کے بارے میں بتایا جس میں 300 سے زائد پاکستانی کمپنیاں اور 500 چینی کمپنیاں شریک ہو رہی ہیں۔
انہوں نے زراعت، کان کنی و معدنیات، ٹیکسٹائل، صنعتی شعبے اور آئی ٹی کو باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی تعاون کے لیے ترجیحی شعبے قرار دیا۔
وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کے عالمی گورننس انیشی ایٹو، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو،گلوبل سیکیورٹی انیشیٹو اور گلوبل سولائزیشن انیشیٹو سمیت کثیرالجہتی کو مضبوط بنانے کے لیے صدر شی جن پنگ کے تاریخی اقدامات کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ اگلے سال پاک چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منائیں گے۔
علاوہ ازیں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں جیسا کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے فیز 2 کی ترقی، سائنس و ٹیکنالوجی ، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، میڈیا اور زراعت، میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کی تقریب بھی منعقد ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں نے شرکت کی۔
پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک سمیت دیگر معاشی منصوبے پاکستان کو معاشی ترقی کی جانب گامزن کریں گے، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا، روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہونگے، ملک پر قرضوں کا بوجھ کم ہوگا۔
پاکستان اب معاشی مشکلات سے نکل کر ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے آئندہ چند سالوں میں پاکستان ایشیائی ممالک میں تجارتی حوالے سے اہم ملک کے طور پر ابھرے گا ملکی ترقی و خوشحالی سے عوام کو زیادہ فائدہ پہنچے گا۔